Introduction

دعوت دین تعارفی بیان

دین پروریگار عالم کا ابدی قانون ہے جو انہوں نے اپنے بندوں کو دیا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی خدا کے قانون کے مطابق اطاعت ِ خداوندی میں گزاریں اور ہر لمحہ خدا کے یا د سے غافل نہ ہوں ، یہ دین اللہ تعالیٰ نے انسان کے فطرت میں ودیعت کی ہے وہ ہمیشہ سے اپنی فطرت سے حق و باطل میں فرق کرنے کا مجاز رہا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے اپنی اس فطرت کو مسخ کرکے طاغوت کا راستہ اختیار کیا اور دین سے غفلت اختیار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے چند لوگوں کا انتخاب کیا جو وحی کے ذریعے خدا کا یپغام انسانوں تک پہنچاتے رہے یہ لوگ رسول اور انبیاء تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے منتخب کیا تھا اور وہ برسوں تک انسان کو ہدایت دیتے رہے اور لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتے رہے یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا یہاں تک کے اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر محمد ﷺ کو مبعوث کیا جو تمام انسانوں کے لیے سراسر رحمت تھے محمد ﷺ کے بعد اب یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا اب قیامت تک انسانوں کی ہدایت کے لیے جو انسان منتخب کیے جائیں گے وہ اولیاء کہلاتے ہیں اور یہ دور دور ولایت کہلاتا ہے اس دور میں انسانوں کی ہدایت کے لیے اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ نے معمور کیا ہے اولیا ء اللہ میں سے ہر صدی کے اوپر اللہ تعالیٰ مجدد مبعوث فرمایئنگے جو دین کو تروتازہ کریں گے اور حکمت سے دین کی تعبیر پیش کریں گے اس کے علاوہ اس دور میں ہدایت کے لیے مھدی علیہ السلام کو بھی مبعوث کیا گیا ہے جسکی پیشن گوئی آپ ﷺ کے فرمودات میں موجود ہے امام مھدی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف منتخب کردہ خلیفہ ہیں جو مامور من اللہ ہیں ۔

ذکری مکتبہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے جس مھدی کی پیشن گوئی کی ہے وہ آچکے ہیں اور وہ سیّد محمد جونپوری ہیں جو چودہ جمادی الاول 847 ھ بمطابق 1443 ء جونپور (داناپور ہندوستان) میں پید ئے ہوئے والد کا نام عبداللہ تھا اور والدہ کا نام بی بی آمنہ تھی جو سیّد السادات تھے حضرت سید محمد جونپوری نے مھدیت کا دعویٰ کیا ہے اور ہزاروں لوگوں کو ہدایت سے روشناس کیا بالاآخر حضرت سید امام مھدی جونپوری 910 ھ بمطابق 1505ء فرہ افغانستان میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور فرہ ہی میں مدفن ہیں آپ کے ماننے والے لاکھوں کی تعداد میں ایران ، بھارت پاکستان اور عرب ممالک میں موجود ہیں حضرت سیّد محمد جونپوری نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور دین کو ترو تازہ کیا اور ہمیں خواب غفلت سے جگا کر صحیح راستہ دکھایا ، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آپ کی پیغام کو آگے پہنچائیں اور فرقہ واریت سے پاک دین کو لوگوں کے سامنے پیش کریں اور لوگوں کے درمیان نفرت وکینہ کو ختم کریں اور محبت و انس انہیں سکھائیں یہی دین اسلام ہے جسکی دعوت تمام پیغمبر د یتے رہے ہیں اور آپ ﷺ کا بھی دعوت کا محور یہی تھا اور تمام اولیا ء نے یہی دعوت انسانوں کے سامنے رکھا اب ہماری ذمہ داری بھی یہی ہے کہ انسانوں کے اندر انس و محبت کی دعوت کو عام کریں اور فرقہ واریت سے پاک دین کی صحیح تعبیر کو لوگوں کے سامنے پیش کریں اسی مقصد کے لیے ہم کوشاں ہیں آئیں سب مل کر انسانیت کی اس میراث کو بحال کریں امین ۔۔۔