دین اسلام ایک مختصر تعارف

دین اسلام کا تعارف:

اللہ تعالیٰ خالق ہے اور انسان مخلوق ہے اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لیے پید ا کیا اور اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے انسان کو زمین پر آباد کیا اور پھر ان کو اس زمین پر رہنے کے آداب و رسوم بتا ئے اور جس مقصد کے لیے پید اکیا گیا تھا اُس مقصد سے آشنا کیا اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ان کو الحکمۃ اور قانون و شریعت دیا ، قرآن کی اصطلاح میں اسی کو دین کہا جاتا ہے اور پھر قرآن کہتا ہے کہ اس دین کو برقرار رکھیں اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کریں۔ قرآن کے مطابق آدم سے لیکر محمد ﷺ تک دین صرف اسلام رہا ہے اور یہی اللہ کا دین ہے سورہ شوری آیت ۱۳میں اس حقیقت کو یوں واضح کیا ہے ۔

شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰى وَعِیْسٰٓى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ

ترجمہ۔ اس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم اس نے نوح کو دیا ، اور جسکی وحی اب ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جسکی ہدایت ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو فرمائی ، اس تاکید کے ساتھ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔

:دین اسلام کی حقیقت

دین کی حقیقت کو قرآن مجید نے سورہ الذاریات آیت ۵۶ میں یوں بیان کیا ہے ۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن
ترجمہ ۔ اور جنوں اور انسانوں کو میں نے صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔
گویا قرآن نے یک ہی لفظ میں اس دین کی حقیقت کو بیان کیا جیسے قرآن عبادت کا نام دیتا ہے قرآن کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبرانسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے بھیجے تھے۔ سورہ النحل آیت ۳۶ میں اسی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔

ترجمہ۔اورہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ اٹھایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔

لفظ عبادت کا معنی لغت میں عاجزی اور پستی کے ہیں گویا خدا کی ہر حکم پر سرتسلیم خم کرنا عبادت ہے ۔خشوع و خضوع اخبات و انابت ،خشیت وقنوت یہ سب الفاظ قرآن مجید نے اس حقیقت کی تعبیر کے لیے استعمال کیے ہیں ۔عبادت ایک داخلی کیفیت کا نام ہے جو انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے ،ذکر و فکر ، تقویٰ ، شکر ،اخلاص، توکل، تفویض ، صبر و رضا ، تواضع ،خوف و رجا ،زھد و قناعت عبد و معبود کے درمیان اس تعلق کے باطنی مظاہر ہیں اسی طرح رکوع و   سجود ،تسبیح و تحمید،دعا و مناجات ،گوشہ نشنی ،عزلت نشینی،چلہ کشی اس کے ظاہری مظاہر ہیں کہ جس طرح انسان نے اپنا باطن خدا کے سپرد کردیا اسی طرح اپنا خارج بھی اسی کے سپرد کردیا ہے اب اس پر اسکا معبود حکومت کرے گا اور وہ طاغوتی طاقتوں سے دور رہینگے۔

:دین اسلام کے مشمولات

جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ اس دین کی حقیقت عبادت ہے تو اس عبادت کے ضمن میں جو اخلاقی اساسات قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں ان کو قرآن مجید نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے سورت النساء ۱۱۳میں ارشاد ہوا ہے۔

وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیْمً

ترجمہ ۔ اور اللہ نے تم پر الکتاب اورلحکمہ نازل فرمائی اور تمھیں وہ چیز سکھائی جس سے تم واقف نہ تھے، اور اللہ کی تم پر بڑی عنایت ہے۔

قرآن نے اس دین کے مشمولات کے لیے جو تعبیر اختیار کی ہے وہ اس آیت میں بیان ہوئی ہے ۔ الکتاب اور الحکمہ ، الکتاب کی تعبیر اس دین کی حدود و قیود کے لیے اختیا ر کیا گیا ہے جس میں قانون عبادات ،قانون معاشرت ، قانون معیشت، قانون سیاست ،قانون جہاد ،قانون دعوت،حدود و تعزیرات ، رسوام آداب ،قسم و کفارہ اور خور و نوش کے مباعث شامل ہے جبکہ الحکمہ کے تحت ایمانیات اور اخلاقیات زیر باعث لائے گئے ہیں ۔یہاں اس امر کی بھی وضاحت کردوں کہ قرآن مجید سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ الحکمہ ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے جبکہ الکتاب یا دوسرے الفاظ میں الشریعہ انسانی تمدن اور ارتقا ء کے باعث تبدیل ہوتی رہی ہے ۔مگر الحکمہ ہر دور میں ایک ہی رہی ہے آدم ونوع علیہ السلام اسی حکمہ کے داعی تھے موسیٰ و داود علیہ السلام اسی حکمہ کی تعلیم دیتے تھے اور عیسیٰ و محمد ﷺبھی اسی حکمہ کیطرف لوگوں کو بلاتے تھے۔اصل دین یہی حکمہ ہے اس لیے قرآن کا اقرار ہے کہ دین ہر وقت اسلام ہی رہا ہے یہ یہودی و نصاریٰ،ہندو ،سکھ ،بدھ مت و جین مت ،زرتشت و صاحبی سب کے سب اپنی حقیقت میں اسلام کے فرقے ہیں جہوں نے برسوں کے سفر کے بعد مذاہب کی شکل اختیار کرلیا انہوں نے اصل میں خدا کے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور فرقوں میں بھٹ گئے آج وہی فرقے بڑے بڑے مذاہب کے نام سے جانے جاتے ہیں۔محمد ﷺ نے آکر ان چیزوں کی وضاحت کردی اور حق دوبارہ ہم پر واضح کردی۔اور قرآن نے اعلان کردیا کہ دیکھو عیسائیوں اور یہودیوں نے خدا کے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور مختلف فرقوں میں بھٹ گئےایسا نہ کہ تم بھی اسی مرض میں مبتلا ہو جاؤ ،لہذا ہوشیار رہو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔مگر بار بار تنبیہ کرنے کے باوجود ہم اس مرض سے نہ بچ سکے۔آج تمھیں ہر جگہ دیوبندی ، بریلوی ،شیعہ،اہل حدیث ،ذکری ،اہل قرآن اوربہائی بڑی آسانی سے ملیں گے مگر کوئی اسلام کا پیروکار جس کو اللہ نے مسلم کا نام دیا کہیں بمشکل مل جائے ۔یاد رکھو یہ فرقے کل یہودیت اور عیسائیت کی طرح اسلام کے مدمقابل مذاہب بن جاہیں گے اور ہم اس دینِ حق سے محروم رہ جائیں گے۔

دین کا مقصد:

اس دین کا مقصد قرآن کی اصطلاح میں تزکیہ ہے ،تزکیہ سے مراد نفس کو دنیوی آلایشوں سے پاک کرنا اور خدا کے دین پرچلانا۔ سورت الاعلیٰ آیت 14تا19میں ارشاد ہوا ہے ۔
 قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰى وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰى بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰى اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى صُحُفِ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰى
ترجمہ۔ البتہ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے رب کا نام یاد کیا ، پھر صلوٰۃپڑھی ،مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ،دراں حالیکہ آخرت کی زندگی ابدی ہے  اور پائدار بھی ،یہ بات پہلے صحیفوں میں بیان ہوا ہے ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔
اس آیت سے واضح ہے کہ اس دین کا مقصد تزکیہ ہے اور تمام انبیاء اسی مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے تھےجیساکہ اوپر ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔

صحیح دینی رویہ:

اللہ تعالیٰ نے اس دین کے ماننے والوں کو درس دیا ہے کہ احسان کا روایہ اختیار کریں احسان کا مطلب کسی کام کو بہترین طریقے سے انجام دینے کے ہیں         یعنی کسی عمل کو کمال اور جمال کیساتھ جس سے اسکی روح اور قالب دونوں پورے توازن کیساتھ پیش نظر ہوں کیا جائے تو اس کو احسان کہا جاتا ہے سورت النساء آیت ۱۲۵میں ارشاد خداوندی ہے ۔
وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا
ترجمہ۔ اور اس سے بہترین دین کس شخص کا ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، اس طرح کہ وہ احسان اختیار کرے اورملت ابراہیم کی پیروی کرے جو بالکل یک سو تھا ۔

:دین کا نام

اس دین کا نام اللہ تعالیٰ نے اسلام رکھا ہے اور اسکے ماننے والے کو مسلمان کہا جاتا ہے اور مسلمان مسلم سے مشتق ہے جسکے معنی امن و سلامتی کے ہیں سورت آل عمران آیت ۱۹میں ارشاد ہوا ہے۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ قف وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَاجَآءَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَھُمْ
ترجمہ۔ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اہل کتاب نے جو اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے ،تو جلد حساب لینے والا ہے۔
گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ دین صرف ایک ہے اور و  ہ اسلام ہے اور تمھیں اسی پر عمل کرنا ہے ۔سورہ العمران آیت ۸۵ میں ارشاد ہو ا ہے
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْن
ترجمہ ۔ ’’اور جس نے اسلام کے سوا کوئی اور دین چا ہا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔

پھر اس دین کا ایک ظاہر بھی ہے او ر باطن بھی ۔دین کے ظاہر کو ہمارے ہاں ارکان اسلام کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن حضور ﷺ کے دور میں کوئی ایسا اصطلاح موجود نہیں تھایہ بعد میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے ۔قرآن نے دین کے اس ظاہر کو بھی  اسلام سے تعبیر کیا ہے یہ پانچ چیزوں پر مشتمل ہے ۔
۔1.اس بات کی شہادت دے جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمدﷺ خدا کے آخری رسول ہیں ۔
۔2. صلوٰۃقائم کی جائے ۔۳۔ زکواۃ ادا کی جائے ۔ ۴۔ رمضان کے روزے رکھے جائیں ۔ ۵بیت اللہ کا حج کیا جائے۔
حضور ﷺ نے فرمایا ۔ اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں اور صلاۃ قائم کرو اور زکوا ۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ۔
یہی وہ دین کا ظاہر ہے جس کو حضورﷺ نے مسلم کی اس روایت میں ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے ۔ یہ چیزیں دین میں فرض ہیں اور انکے ماننے کے بغیر قرآن مجید کسی کو مسلمان تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
جس طرح اس دین کا ایک ظاہر ہے اسی طرح ایک باطن بھی ہے جیسے ہمارے ہاں اصطلاح میں ایمان کہا جاتا ہے اور مزید فیہ اس کوایمان مفصل سے تعبیر کیا جاتا ہے  یہ اپنی اصل میں پانچ چیزوں سے عبارت ہے۔ ۱۔ اللہ پر ایمان ۔۲۔فرشتوں پر ایمان ۔۳۔انیباء پر ایمان ۔۳۔آسمانی کتابوں پر ایمان۔۵۔ آخرت پر ایمان ۔
ایمان لانے کے بعدمسلمان پر جو چیزیں واجب ہو جاتی ہیں وہ میں ذیل میں الگ الگ بیان کر دیتا ہوں جیسے ایمان کے تقاضے کا نام دیا جاسکتا ہے یہ گیارہ چیزوں سے عبارت ہے جو ایمان لانے کے بعد کچھ پوری طور اور کچھ آہستہ مسلمان پر لازم ہوتے ہیں یہ سب فرائض کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

ایمان کے تقاضے

ایمان جب اپنی حقیقت میں دل میں داخل ہوجاتا ہے اور انسان یہ شرف حاصل کرلیتا ہے تو یہ اپنی وجود میں انسان سے چند مطالبات کرتا ہے یہ گیارہ چیزیں ہیں ۱۔ عمل صالح ۲۔ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر ۳۔ ذکر کثیر ۴۔ توکل ۵۔ طلب دیدار خدا ۔ ۶۔ صحبت صادیقین ۷۔عزلت ۸۔ ترک دنیا ۹۔ہجرت ۱۰۔ نصرت دین ۱۱۔ قیام بالقسط ۔
ان میں سے دو مطالبات بنیادی نوعیت کے ہیں جن کا مطالبہ دین ہر وقت اور ہر جگہ ایمان کے بعد ہر مومن سے کرتا ہے پہلا عمل صالح اور دوسرا تواصی بالحق اور تواصی بالصبر  ، سورت العصر میں اس کے متعلق ارشاد ہو ا ہے ۔
ترجمہ ۔ زمانہ گواہی دیتا ہے کہ انسان خسارے میں پڑ کر رہیں گے ،ہاں مگر وہ نہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ،اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کی۔

عمل ِ صالح:

عملِ صالح سے مراد وہ عمل ہے جو تزکیہ اخلاق کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ یہ تمام چیزیں عقل و فطرت سے ثابت ہیں کہ کونسی عمل صالح ہے اور کونسی عمل صالح نہیں ، انسان اپنی فطرت سے اس کا ادراک بڑی آسانی سے کرسکتا ہے اور جہاں عقل کی دھوکہ کھانے کا خدشہ ہے وہاں شیریعت نے وحی کے ذریعے انسان کی رہنمائی کی ہے۔

تواصی بالحق اور تواصی بالصبر:

تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کے معنی یہ ہے کہ انسان اپنے ماحول میں ایک دوسرے کو حق اور حق پر ثابت قدم ہونے کی نصیحت کرے ، جو حقیقت تم پر واضح ہوئی ہے اس کو اپنے استعداد کے مطابق اپنے اردگرد کے ماحول میں بیان کردو اور اس حق کو دوسروں پر بھی واضح کردو ۔ہمارے معاشرے میں اس کی بڑی ضرورت ہے یہ چیز ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے اورآج  جتنے بھی مسائل ہمیں درپیش ہے وہ اسی پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہیں ، آپ اس حق کی دعوت دیں گے ،کوئی مانے گا یا نہیں وہ آپکی ذمہ داری نہیں وہ پھر خدا اور بندے کا معاملہ ہے ۔

ذکر کثیر:

ایمان لانے کے بعد جب مسلمان ایمان کے بنیادی مطالبات کو پورا کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے اندر ذکر کثیر کا جذبہ پیدا ہونا لازمی ہوتا ہے وہ ہر وقت خدا کی یاد میں رہتا ہے اور ہر معاملے میں شارع کی دی ہوئی قانون کی پابندی کرتا ہے اور چلتے پھیرتے ،اٹھتے بیٹھتے،سوتے جاگتے ہر وقت خدا کی ذکر میں مشغول رہتا ہے جیسے ذکر کثیر یا ذکر دوام کہا جاتا ہے قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کی تلقین کی ہے اور ذاکرین کو جنت کی نوید سنائی ہے ارشاد خداوندی ہے ۔
(یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا َّسَبِّحُــوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا (سورت الاحزاب ۴۱۔۴۲
ترجمہ۔ ’’ اے ایمان والو ں کثرت سے اللہ کا ذکر کرو اور صبح و شام اسکی تسبیح کرو۔

(وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْن۔(سورہ الاعراف آیت 205
ترجمہ ’’اور اپنے رب کا ذکر کرو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے ، صبح کے وقت اور شام کے وقت اور غافلوں میں سے نہ ہوجانا۔
اسی طرح اللہ نے مومنوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
(وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔(سور ت الاحزاب ۲۸
ترجمہ ’’اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کی ہے

:توکل علی اللہ

ایمان لانے کے بعد بندہ مومن سے یہ ایمان اپنی بنیاد میں ہر معاملے میں خدا سے توکل کا مطالبہ کرتا ہے توکل علی اللہ سے مراد اللہ کے قانون کے مطابق مادی اشیاء کو استعمال میں لانا اور پھر خدا پر بھروسہ کرنا ،رزق کے جو ذرائع اللہ نے پید ا کیے ہیں ان ذرائعوں کو اختیار کیا جا ئے پھر اللہ پر بھروسہ کیا جائے اسی کو توکل علی اللہ کہا جاتا ہے ارشادخداوندی ہے ۔
(وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْن(سورت الشوریٰ آیت ۳۶
ترجمہ ۔ اور جو چیز اللہ کے ہاں بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔

طلب دیدار خدا:

ایمان جب انسان کے اندر داخل ہوجا تا ہے اور وہ اس حقیقت کو مان لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی میرا خالق اور مالک ہے تو اس کے نتیجے میں بندہ مومن اس چیز کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ اپنے مالک اور خالق کو دیکھے ،بندہ مومن کی زندگی اسی جستجو کے اندر اور خدا کو پانے کوشش میں گزرنا چاہیے جس سے مومن شر سے بچتا ہے اور خیر کو ہر وقت اپنا لیتا ہے اور اپنی اس خواہش کو دوام بخشتا ہے اور دنیا میں صبح شام اسی حقیقت کوحاصل کرنے میں لگا رہتا ہے اور یہی بندہ مومن کا مقصد حیات ہونا چاہیے ارشادخداوندی ہے ۔
(وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ( سورت الانعام آیت ۵۲
ترجمہ ۔اور ان لوگوں کو مت نکالوجو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں جو صرف اس کا دیدار چاہتے ہیں ۔

صحبت صادقین:

ایمان لانے کے بعد یہ ایمان اپنی بنیاد میں یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اب وہ خدا کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرچکا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کے پاس جائے جو اللہ پر ایمان لا چکے ہیں اور اس ایمان پر سچے اور پکے ہیں اور خدا کے دین اور شریعت کے رگ و ریشوں سے واقف ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں ، انکی صحبت اختیار کرے ان سے دین سیکھیں اور دین کی نصرت  میں ان کی مدد کریں جو اللہ کے دین کی مدد کے لیے نکلے ہیں قرآن مجید میں اللہ نے ان الفاظ کیساتھ اس کا حکم دیا ہے
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (سورت التوبہ آیت ۱۱۹
ترجمہ ۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور صادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔

مولانا رومی نے اپنے مثنوی میں کیا خوب کہا ہے ۔

   یک    زمانے  صُحبتے بہ     اولیاء 
بہتر   از صد سالہ   طاعت بے ریا

عزلت نشینی:

یمان کے بعدجب مسلمان اس ایمان پر پختہ ہوتا چلا جاتا ہے  اور وہ توکل کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے تو جو چیز ان کے اندر پیدا ہونا چاہیے وہ عزلت عن الخلق ہے جس کا مطلب ہے خدا کو سب کچھ سمجھ لینا اور اس سے لپٹ کر رہنا اور اپنی تما م توقعات اور امیدوں کو خدا سے وابستہ کرلینا، یہ ایمان کا لازمی نتیجہ ہے جو مومن کے اندر پیدا ہونا چاہیے ارشاد خداوندی ہے۔
(وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا( سورت المزمل آیت ۸
ترجمہ۔ اور اپنے رب کا ذکر کرتے رہو اور سب سے کٹ کر اسی کا ہوکر رہو ۔

ترک دنیا:

ترک دنیا سے مراد دنیاوی مال و دولت کی محبت سے دوررہنا اور حب دنیا کے مقابلے میں آخرت کو سب کچھ سمجھنا اور اسی کے لیے تیار ی کرنا، دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ شیطان نے انسان کو ہر وقت اسی راستے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ کامیاب بھی رہا ہے تو ایمان کا بندہ مومن سے یہ تقاضا ہے کہ وہ دنیا کو محض آخرت کی کھیتی سمجھ لیں ایسا نہ ہو کہ وہ دنیاوی زندگی کی عیش آرام میں گم ہوجائے اور آخرت سے بیگانہ رہے ، بلکہ ایمان کا اس سے تقاضا ہے کہ وہ جو کچھ دنیا میں پالے اسے خدا کی نعمت سمجھ کر خدا کی راہ میں خرچ کردے تاکہ شیطان اس راستے سے بندہ مومن پر حملہ نہ کرسکے ارشادخداوندی ہے ۔
(اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاوَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلاً    (سورت الکہف آیت ۴۶
ترجمہ۔یہ مال اور اولاد صرف دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور جو نیک اعمال ہیں وہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں ثواب اور بدلے کے اعتبار سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں ۔

ہجرت:

اگر کسی جگہ دین پر عمل کرنا مشکل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا بالکل نا ممکن ہو جائے ۔ مشرک و ظالم ان کو دین کے لیے ستائیں اور تنگ کریں اور وہ بالکل مظلوم ہو کر رہ جائے  تو ایمان اس صورت حال میں مومن سے جو تقاضا کرتا ہے وہ  ہجرت  ہے یعنی اپنا وطن ، گھر بار چھوڑ کر کسی ایسی جگہ منتقل ہو جائیں جہاں وہ آسانی سے خدا کے دین پر عمل پیرا ہوسکیں ، ایسا نہ کرنے پر نص ِقرآنی میں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَآٰءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُم قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْض قَالُوْٓا اَلَمْ تُکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَافَاُولٓکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّم ۔
ترجمہ۔’’ جن لوگوں کی روحیں فرشتے اس حال میں نکالیں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے ، ان سے پوچھیں گے ، یہ تم کس حال میں پڑے رہے( تو وہ جواب دیں گے) ہم اس ملک میں بے بس اور مجبور تھے ، ( تو فرشتے ان کو جواب دینگے) کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کرجاتے ؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے ،وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ‘‘۔
مظلوم ہونے کی صورت میں گویا اللہ کی دین کے لیے وطن چھوڑنا فوزالعظیم  ہے جو انسان کو بغیر جستجو کے منزل مقصود تک پہنچا سکتا ہے  تاریخ کے اوراق میں بڑی ہستیوں نے اپنے ملک وقوم چھوڑ کردین کی خاطر ہجرت کی، ہجرت مدینہ اسکی واضح مثال ہے ، جب مکہ میں دین پر عمل پیرا ہونا مشکل ہوگیا تو محمد ﷺ نے مدینہ کی راہ اختیار کرلی ، اسی طرح ذکری تاریخ میں حضرت سیّد امام مھدی ؑ کی ساری زندگی اسی دین کی خاطر ملک و قوم ، اہل وعیال چھوڑ کر کبھی عرب کے تپتے ہوئے صحراؤں میں تو شاذو نادر ہندوستان کے میدانی علاقوں میں ، اور گاہے بگاہے مکران کے سنگلاخ پہاڑ ی راستوں سے سفر کرتے رہے ، یہاں تک ایران کے مشکل اور دشوار گزارراستوں سے ہوتے ہوئے افغانستان کے برفیلے علاقوں میں بغیر سفری سازو سامان ایمان کی اس مانگ کو پوری کرتے رہے شے خاندان اپنا ملک اسی دین کی خاطر چھوڑ کرکیچ میں منتقل ہوگئے ۔ میرے ابا و جداد بھی پہلے زعمران نلونج میں رہائش پزیر رہے ہیں لیکن جب دین پر آنچ آئی تو واجہ سیّد حببب ابن ابا بکر نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر دین کی خاطر ہجرت کی ، اور جاکر سید آباد بالگتر میں مقیم ہوگئے تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہجرت کی ضرورت جب بھی پیش آئی تو ہمیں بلاجھجک خدا کی دین کی بقاء کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر کوچ کرنا ہے اسی میں ہماری زندگی ہے۔

نصرت:

جب بھی کسی وقت دین کو مدد کی ضرورت پڑ گئی،دین کو بچانے کی خاطر کسی اقدام کی ضرورت ہے تو ایمان کا تقاضا ہے کہ آپ بڑھ چڑھ کر مالی اور جانی مدد کریں ، مال و دولت ، زبان و قلم ، تیغ و تپر، سب کچھ دین کے لیے حاضر کیا جائے،کوئی بھی چیز بندہ مومن کو اس وقت خدا کی دین سے عزیز نہیں ہونی چائیے ، اسی کو نصرت کہا جاتا ہے ۔ یہ عمل اللہ کو اتنا عزیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس نے دین کی نصرت کی خاطر کچھ دیا تو گویا مجھے قرض دیا ہے اب خدا اس قرض کو کس طرح ادا کرے گا اس کااندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا ، آج ہمارے ہاں بھی دین کو اس نصرت کی ضرورت ہے مگر ہمیں دین سے زیادہ دنیا عزیز ہے اس لیے ہم دین کی اس عظیم دولت سے محروم ہو رہے ہیں اور خدا قرض مانگ رہا ہے لیکن ہم ہیں کہ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہو اہے ۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ۔ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ۔ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ (سورت صف۱۰تا ۱۲
ترجمہ۔ اے ایمان والو!کیا میں تمھیں وہ سودا بتاؤ ں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچائے ؟ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ گے اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کروگے ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جان لو۔ ( اس کے بدلے میں ) اللہ تمھیں بخش دیگا اور تمھیں ان باغوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور عمدہ مسکن جو ابدی ہونگے ،یہی بڑی کامیابی ہے ۔

قیام بالقسط:

انسان کے اندر شیطان بھی موجود ہے جو ہر وقت انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ، انسان کے جذبات ، خواہشات ، مفادات اگر دین دنیا کے کسی معاملے میں اسے انصاف کی راہ سے ہٹادینا چاہیں تو یہ ایمان انسان سے تقاضا کرتاہے کہ مومن حق و انصاف پر قائم ر ہے ، اور کوئی چیز اسے انصاف سے نہ ہٹا سکے ، حق کہے ، حق کا مطالبہ کرے ، کہیں گواہی دینے کی ضرورت پڑی تو حق کی گواہی دینا چاہیے یہ گواہی ان کو اپنے ماں ، باپ ،بیوی بچے اور عزیز ترین دوست کے خلاف دینا پڑجائے،لیکن یہ چیزیں حق کے سامنے رکاوٹ نہ بن جائیں ، اسی کوقیام بالقسط کہا جاتا ہےقرآن مجید میں ارشاد ہو اہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔( سورت المائدہ ۔۸
ترجمہ ۔’’اے ایمان والوعدل پر قائم رہنے والے بنو ،اللہ کے لئے اس کی شہادت دیتے ہوئے اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس طرح نہ ابھارے کہ تم عدل کو چھوڑ دو ،عدل کرو تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بے شک اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے ۔

:تحریر

عبدالکریم دوست

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *