حضرت سید محمد جونپوری ؑ مختصر سوانح عمری

حضرت سید محمد جونپوری ؑ مختصر سوانح عمری

ذکری مکتبہ فکر کے  بانی حضرت سید محمد جونپوری علیہ السلام بہ وقت سحر بروز پیر بتاریخ14 جمادی الاول 847ھ بمطابق 1443عیسوی بمقام جونپور داناپور  میں  پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام حضرت سید عبداللہ تھاجنہیں شرقیہ حکومت کی جانب سے سید خان کا خطاب ملا تھا اور والدہ  کا نام  بی بی  آمنہ تھا جنہیں شرقیہ حکومت کی جانب سے آقا ملک کا خطاب دیا گیا تھا آپ کے دادا بزرگوار حضرت عثمان ؒسمر قند کے رہنے والے تھےمگر بعد میں آپ نے سمرقند سے ہجرت کرکے جونپور میں سکونت اختیار کی اور یہاں مقیم ہوئے بی بی آمنہ اور حضرت عبداللہ دونوں فاطمہ زہرہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت سید امام مھدی جونپوری کانسب  نامہ یہ ہےسید محمد مھدی بن عبداللہ بن سید عثمان بن سید خضربن سید موسیٰ بن سید قاسم بن سید نجم الدین بن سید عبداللہ بن سید یوسف بن سیدیحییٰ بن جلا ل الدین بن سیداسماعیل بن سید نعمت اللہ بن امام موسیٰ کاظم بن امام باقر بن امام علی اصغر بن سید امام حسین بن سید علی حیدر کرم اللہ وجہہ۔

https://www.environmentalhealthproject.org/9k9yfd4y59  بی بی آمنہ کو جس شب استقرار حمل ہوااسی شب کے آخری حصے میں آپ نے چاند کو آسمان سے اتر کر اپنے گریبان میں چھننے کے بعد آستین سے برآمد ہوتے دیکھا اور جذبہ الٰہی میں مستغرق ہوگئیں امام مھدی  علیہ السلام پیدائش کے وقت آرائش سے پاک اور اپنے ہاتھوں سے شرمگاہوں کو ڈھانکے ہوئے تھےآپ کی پیدائش کے وقت ہاتف  غیبی سے سے یہ آواز سنی گئی۔

Buy Cannabis Oil Nsw https://www.sdepa.fr/non-classe/aqje977b وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا 

(ترجمہ: کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل فنا ہوگیا کہ باطل بہرحال فنا ہونے والا ہے(سورہ بنی اسراءآیت 81

Buy Cannabis Oil Cdc  

https://www.hackshed.co.uk/cpea89x جونہی یہ صدا کہ ’’حق آگیا باطل مٹ گیا “ہا تفِ غیب سے سنی گئی۔ تو جونپور کے بت خانوں میں سارے بت اوندھے گر گئے اور جونپور میں ایک عجیب سماں تھا
شہر کے نامی گرامی بزرگ اور  اپنے دور کے ایک ولی کامل جناب شیخ دانیال نے جب یہ آواز سنی تو آپ نے فرمایا کہ آج ضرور کوئی ولی کامل پیدا ہوا ہے
بعد میں محمدﷺ نے سید عبداللہ کے خواب میں تشریف لاکر ارشاد فرمایا کہ اس مولود کو میں نے اپنے سے موسوم کیا ہےچنانچہ حضرت عبداللہ نے آپ کا نام  محمد  رکھا اورکنیت سید عبداللہ نے اپنے دادا سید قاسم کے نام سے ابوالقاسم رکھا۔

http://www.cancercareinc.org/fm4t6t3vsb امام مھدی جونپوری علیہ السلام کا بچپن نہایت باوقار تھاآپ نہ شرارت کرتے اور نہ ضد اکثر خاموش رہتےبہت کم کھاتے اور بہت کم سوتے اور بچوں سے ملک کر کھیلنا کودنا جانتے ہی نہ تھےکبھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا، ہر ایک سے نرمی سے پیش آتا اورنہایت شیریں جواب دیتے۔ کبھی کسی کو آپ سے شکایت کا موقع نہ ملا، والدین کے مگر کم سنی ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیاتھوڑے ہی عرصہ بعد والدہ بھی وفات پاگئیں ۔ 
گویا آپ کی بچپن ہی آپ کی مھدیت کی شہادت  دے رہا تھا۔ جب آپ کی عمر  4سال 4ماہ چار دن ہوئی جو 18 رمضان 1447ءہفتہ کا دن تھاآپ کو شیخ دانیال چشتی کی مدرسہ میں قرآن مجید پڑھنے کے لیے داخل کردیا گیا۔ جہاں آپ نے اپنی ذہانت کا غیر معمولی ثبوت دیا صرف سات سال کی عمر میں تمام کلام پاک حفظ کیا اس کے بعد دیگر علوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے اور صرف ۵ سال کے قلیل عرصے میں یعنی ۱۲ سال کی عمر میں تمام علوم دینیہ پر عبور حاصل کیاجب آپ نے علوم ظاہری حاصل کیےتو حضرت شیخ دانیا  ل نے تمام علماء شہر کو مدعو کیا اور آپ کےسر پر دستار باندھی اور سب علماء کے مشورے سے امامنا کو “اسد العلماء” کا خطاب دیا گیا امامنا نے علم سے فراغت پاکر وعظ ونصیحت کا سلسلہ شروع کردیاہر مجلس میں عوام وخواص جمع ہوتے اور آپ سے فائدہ اٹھاتے۔روزانہ مجلس وعظ ونصیحت منعقعد ہوتی اور ہزاروں مسلمان آپ کی تلقین سے فیضیاب ہوتے رہتے، آپ کا طرز بیان اتنا خوبصورت اور عام فہم تھا کہ عالم وجاہل اس سے دونوں برابر فائدہ اٹھاتےآپ روزانہ قرآن پاک کا تلاوت فرماتے تھے۔

http://santondownham.org/7vqju7gr83 جب امامنا کی عمر مبارک ۱۹ سال ہوگئی تو 866ھ بمطابق 1462عیسوی آپ کی شادی آپ کی چچیری بہن بی بی الہدادی بنت بندگی سے کردی گئی بی بی الہدادی بہت نیک خاتون تھی ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ بی بی الہدادی سے آپ نے عشاء کے بعد پانی مانگا اور قبل اس کے کہ آپ حاضر کرتیں آپ پر جذب طاری ہوگیابی بی الہدادی صبح تک پانی لے کر کھڑی رہیں جب صبح آپ کو ہوش آیا اور بی بی کو وہیں کھڑے دیکھا تو آپ کو از حد مسرت ہوئی اور آپ نے بی بی کے حق میں دعا فرمائی۔

حضرت امام مھدی علیہ السلام  جونپور میں مقیم تھے اور اُس وقت جونپور کا بادشاہ سلطان حسین شرقی تھا  ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ وعظ ونصیحت فرمارہے تھے اس وعظ ونصیحت میں آپ نے فرمایا    اسلام کبھی مغلوب نہیں ہوسکتایہ بات مسلمان کی شان سے بعید ہے کہ وہ غیر مسلم کا فرمانبردار رہےغیر اسلامی قوت کی اطاعت مسلمانوں کے حق میں نہیں  ہےمسلمان اور غلامی دو متضاد چیزیں ہیں اس مجلس میں جونپور کے والی سلطان حسین شرقی بھی موجود تھے سلطان حسین شرقی گوڑ کے راجہ رائے دلپت کے باجگزار تھے  حضرت کی اس اخلاص اور ظرافت انگیز  تقریر جب سلطان نے سنی تو اسقدر متاثر ہوئے کہ اپنی بے سروسامانی اور قوت کی کمی کے باوجود راجہ دلپت کے مقابلہ کے لیے تیار ہوگئےسلطان نے حضرت مہدی ؑسے درخواست کی کہ مسلمانوں کی فتح کے لیے دعا کریں آپ نے نہ صرف دعا فرمائی بلکہ عملی مدد کے لیے بھی تیار ہوگئے اور چند بیراگیوں کی ایک فوج تیار کی اس جنگ میں آپ نے خود بھی شرکت کی۔
جب راجہ دلپت کو علم ہوا کہ مسلمانوں کی یہ چھوٹی ریاست اس سے بغاوت پر آمادہ ہےتو اس نے  ان  کو کچلنے کے لیے ایک زبردست فوج کے ساتھ حکومت شرقیہ (جونپور) پر حملہ کردیااور اُدھر سے سلطان حسین شرقی اور سیّد محمد جونپوریؑ کی فوج یعنی مسلمانوں کی فوج نے  راجہ دلپت کو مات دینے کے لیے میدانِ جنگ میں قدم رکھامسلمانوں کا فوج راجہ دلپت کی ۷۰ ہزار فوج کے مقابلے میں بہت کم تھی مگر حضور مھدی کی تھپکی پر کہ فتح حق کی ہوگی نے مسلمان فوج کو بہت حوصلہ بخشا۔ راجہ دلپت کی فوج نے چاروں  طرف سے مسلمانوں کے مختصر لشکر کو گھیرکر ہلہ بول دیاگھمسان کی لرائی ہونے لگی خون کی ندیاں بہہ گئیں ۔مسلمانوں نے نہایت دلیری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ راجہ کی فوج تعداد کے علاوہ سازوسامان جنگ میں بھی مسلمانوں کے پاؤں اکھاڑنے والے تھے اور قریب تھا کہ وہ میدان سے بھاگ نکلیں مگر امام مھدی علیہ السلام نے مسلمان فوج کو تھپکی دی اور وہ ہمت  کے ساتھ میدان میں جمے رہے۔ اتنے میں راجہ دلپت خود ایک مست ہاتھی پر سوار ہوکر حضرت کی طرف بڑھا حضرت مھدی نے اللہ کا نام لے کر ایک تیراس زور سے اس ہاتھی کے متک پر مارا کہ وہ پورا پلٹ کر خود اپنی فوج کو روندنے لگا راجہ ہاتھی سے اتر کر ایک گھوڑے پر سوار ہوکر آپ کے مقابلے میں آیااور تلوار سے آپ پر وار کرنے لگاآپ نے پھرتی سے وار کو خالی دیامگر آپ کا گھوڑا زخمی ہوگیاآپ نے راجہ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور تلوار کا ایک ایسا بھرپور وار کیا کہ راجہ زمیں پر گر گیاراجہ  کی موت  کی خبر سن کر  فوج میں بھگڈر مچ گئی ۔جنگ کا نقشہ بدل گیامسلمانوں کو نہ صرف کامیابی نصیب ہوئی بلکہ بہت سا مال بھی ہاتھ آیا ۔ یہ جنگ 875ھ میں لڑی گئی۔ 875ھ آپ کی زندگی میں تاریخی اہمیت سے بہت اہم تھا ایک تو انہوں نے اسلام کی سربلند ی کے لیے پہلی جنگ لڑ کر راجہ دلپت کو شکست دی اور اسلام کو سر بلندی عطا کی دوسرا یہ کہ اسی عرصہ میں آپ کے گھر  سیّد محمود پیدا ہوئے۔

http://www.himalayanecolodges.com/3wg92ke جب حضرت میران مہدی چالیس سال کے ہوئے تو آپ جونپور سے نکل کھڑے ہوئے۔ سلطان حسین شرقی والی جونپور نے آپ کو  روکنے کی تگ ودو کی اور کہا کہ آپ کے طفیل مجھ کو اور مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی آپ کے جونپور چھوڑنے سے مسلمان کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گاامامنا نے فرمایا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قضا ہے اب میں نہیں رک سکتاچنانچہ آپ نے مندرجہ ذیل ساتھیوں کے ہمراہ جونپور سے ہجرت کی۔

، بی بی الہدادی  ، صاحبزادہ میاں سیّد محمود،شاہ دلاور(شاہ دلاور راجہ دلپت کا بیٹا تھا۔ جس کو جنگ کے دوران مسلمان نے اپنے حراست میں کیا۔ شاہ دلاوار بعد میں ایک زبردست مہدوی مبلغ بنے اور حضرت سید محمد مھدی کے خلیفہ پنجم بنے۔ بڑے بڑے فاضل لوگوں نے آپ کے ہاتھ مہدویہ مذہب قبول کیا۔) ،میاں سید سلام اللہ،میاں سید ابوبکر ، میاں شیخ بھیک ، مولانا قاضی علی محمد،مولانا قاضی سید ،حضرت سید فہیم جونپوری،میاں عبدالقادر،میاں چالاک، میاں جمال الدین، میاں قطب الدین، میاں لاؤ(جوجونپور کے مسجد کے امام تھے۔) ،میاں طاہر جونپوری، میاں بھل جونپوری، میاں بہلول جونپوری۔

Order Cbd Oil Uk جونپور سے ہجرت کرکے آپ دانا پور آئے، دانا پور میں آ پ  کاقیام بہت مختصر رہا۔یہاں بھی ہزاروں لوگوں نے آپ کے دست مبا رک پر بیعت کی دانا پور سے آپ کالپی پہنچے۔ یہاں کا راجہ آپ کا مطیع ہوگیاکالپی کے راجہ کی دختر آسیب زدہ تھی وہ آپ کی دعا کی بدولت اس بیماری سے شفایاب ہوگئی اور مسلمان بھی ہوگئی اور آپ نے اس رانی کا نام بی بی بھیکارکھا اور ان سے نکاح کرلیا یوں بھیکا آپ کی دوسری بیوی بن گئی۔ کالپی میں آپ نے کچھ وقت تک  قیام کیااور وعظ وبیان کا سلسلہ جاری رکھاآپ  کی عادت تھی کہ ہرروز عصرومضرب کے درمیان ضرور کلام پاک کا بیان فرماتے کالپی سے چل کر آپ نے مالوہ کے سرحد بمقام چند یری قیام کیا۔آپ کے بیان میں ہزاروں کی تعداد میں عوام و خواص شریک ہوتے اور ثروت علم اور ایمان سے مالا مال ہوتے مشائخین نے آپ کی عزت و توقیر سے متاثر ہوکر آپ کو دق کرنا شروع کیا اور آپ کو مجبور کرکے شہر سے خارج کرادیاکہتے ہیں کہ آپ کے  جانے کے  دوسرے دن چندیری میں ایک زبردست آگ لگ گئی اور اکثر اشرار جل مرے اور ایک عظیم فساد برپا ہواجس میں کئی مشائخین مارے گئے چندیری سے آپ چاپانیر پہنچے چاپانیراُس زمانے میں گجرات کا صدر مقام اور محمود بیگڑہ کا پایہ تخت تھاآپ نے ایک مسجد میں قیام فرمایا۔ جب سلطان محمود بیگڑہ کو آپ کی  زہدورع اور تقویٰ کے بارے میں علم ہوا تو نہوں   نےایک   وفد مھدی کی طرف بھیجا اس وفد میں فرہاد الملک سلیم خان اور ایک علماء کی جماعت شامل تھیں جب یہ وفد میران مہدی کے انجمن میں پہنچا تو اس وقت حسب عادت عصر اور مغرب کے درمیان بیان قرآن فرما رہے تھےفرہادالملک اور سلیم خان اور دیگر علماء آپ کی پراثر شخصیت اور بیانِ قرآن سے بیحد متاثر ہوئے یہ دونوں امیر اسی وقت آپ کی مہدیت کے مصدق ہوگئےسلطان محمود بیگڑہ کو جب آپ کے بارے میں  معلوم ہوا وہ بھی آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے ۔چاپا نیر میں 3ذی الحجہ 891ھ بمطابق 3  نومبر 1486عیسوی کو آپ کی زوجہ  بی بی الہدادی دارفانی سے کوچ کرگئیں اور بی بی الہدادی چاپا نیر کے پہاڑوں کے دامن میں دفن کی گئیں۔

http://turningpointacupuncture.com/?gj6=ydp4ian2w5 چاپا نیر سے آپ مانڈو تشریف لے گئے۔ یہ شہر اُس زمانے میں سلاطین مالوہ کا دارالسلطنت تھا یہاں کا حاکم سلطان نصیرالدین تھاجس نے اپنے باپ سلطان غیاث الدین کو نظر بند کرکے خود تخت پر قابض ہوگیا تھاسلطان غیاث الدین کو جب میراں مہدی کی خبر ہوئی تو اس نے اپنی خدمت گار کو آپ کی طرف  میں روانہ کیا اور مجبوراً حاضر خدمت نہ ہونے کی معذرت کی اور خواہش کی کہ حضرت اپنے دو معتمد  الیہ لوگوں کو خادم کیساتھ رورنہ کریں میرانِ مہدی نے اپنے نسبتی برادر میاں سلام اللہ اور ابوبکر جونپوری کو رورانہ فرمایا سلطان غیاث الدین نے ان دونوں سے چند سوالات کیےجب وہ مسئلہ مھدیت میں مطمین ہوگیاتو آپ کی مہدیت کی تصدیق کی، سلطان غیاچ الدین نے روپیہ اور زیورات سے بھرے ہوئے طباق روانہ کیےجونہی  یہ خزانہ مہدی کی خدمت میں پیش ہواتو آپ نے سارا مال بے برگ ونوااور مسکینوں پر تقسیم کیے اور فرمایا کہ جو ذات باری تعالیٰ کا طالب ہےاسے سونے چاندی کی کیا حاجت ہے مانڈومیں ہزاروں لوگ آپ کے مرید بن گئےسلطنت خلجی کے مشہور وزیر علامہ میاں الہداد حمید جو ایک شاعر اور عالم دین بھی تھے۔آپ کے مصدق میں شامل ہوگئے مانڈو سے آپ خاندلیس کے شہر ہانپور میں ٹھہرتے ہوئے دولت آباد پہنچے اور حضرت سید محمد عرف عرف شیخ مومن رحمتہ اللہ کے مزار پر فاتحہ پڑھی۔ یہاں پر کنواں تھامزار کے فجار نے آپ سے شکایت کی کہ کنویں کا پانی بہت ہی کھاری ہےآپ نے منہ میں پانی لے کر باولی میں کلی فرمادی تو پانی میٹھا ہوگیا اور آج تک اس معجزے کی بدولت میٹھاہے ۔

چند دن دولت آباد قیام کے بعد آپ احمد نگر پہنچےیہاں بھی آپ کا چرچا خوب ہوایہاں کا حاکم سلطان احمد نظام شاہ بن نظام الملک بھری لااولاد تھےحاضر خدمت ہوکر طالب دعا ہواآپ نے اس کے لیے دعا فرمائی جسکی بدولت اس کے ہاں ایک لڑا پیدا ہواجس کا نام سلطان برہان نظام الملک رکھا گیاسلطان احمد نظام آپ کا مرید بن گیا اور اس کے دور میں اس مکتبہ فکر کو دکن میں بہت فروغ ملا خصوصاً سپاہی بہت بڑی تعداد   میں اس سے متاثر ہوئے آج بھی دکن میں مھدوی  ہزاروں کی تعداد  میں آباد ہیں۔

یہاں سے آپ نے بیدر کا رخ کیا یہاں کا حاکم شاہ قاسم بریدوائی تھا اس جگہ علماء اور حاکم کی طرف سے بڑی آؤبھگت ہوئی اور بہت سے افراد ترک دنیا کرکے آپ کے ساتھ ہوگئےیہاں آپ کے دست مبارک پر قاسم بریدوائی کے علاوہ علامہ قاضی علاؤ الدین بیدر، فاضل اجل قاضی منتخب الدین جوہیر، مولانا ضیاء الدین عاشق اللہ، شیخ علی پنڈسالی اور حضرت شیخ مومن توکلی اور ہزاروں لوگوں نے بیعت کی ۔سید اقبال جونپوری کی لکھی  ہوئی  کتاب ’’تاریخ سلاطین اور صوفیائے جونپور‘‘ میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ مھدی علیہ السلام  نے یہاں تیسری شادی کرلی ۔بیدر میں امام مھدی ؑ کا حجرہ مبارک  آج بھی  موجود ہے یہاں ایک سال چھ ماہ ٹھہرنے کے بعد آپ گلبرگہ کی طرف روانہ ہوئےحضرت سید محمد گیسو دراز کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر حضرت شیخ سراج الدین کے روضہ پر تشریف لے گئےگلبرگہ سے روانہ ہوکر بیجاپور اور چیتا پور ہوتے ہوئے ڈابول بندرگاہ پہنچے ڈابول بندر گاہ اُس زمانے میں دکن کی سب سے اہم اور تجارتی بندرگاہ تھی ڈابول سے اپنے  تین سو ساٹھ ساتھیوں کے ہمراہ خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوئے مکہ میں آپ کا قیام تقریباً ۹ ماہ رہا ۔ رکن اور مقام کے درمیان کھڑے ہوکر آپ نے اعلان کیا کہ میری ذات وہی ہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور محمدﷺ نے جس کی آمد کی خبردی تھی مہدی آخرالزمان میری ذات ہے حج کرنے کے بعد مکہ سے اللہ والوں کا یہ گروہ دوبارہ ہندوستا ن آیا اور دیوبندر پر اترےپھر دیوبندر سے کھمبایت پہنچےجہاں اکثربواہیر آپ کے مرید ہوگئےآپ یہاں سے نکل کر گجرات کے پایہ تخت احمد آباد پہنچے اُس وقت احمد آباد کے تین سو ساٹھ محلے تھے یہ شہر بڑا بارونق تھا اور علم وفضل کا مرکز بھی۔ بیسیویں اولیاء کے مزار یہاں موجود ہیں یہاں آپ علیہ السلام نے مشہور مسجد تاج خان سالار میں قیام فرمایاجہاں لوگ جوق در جوق حلقہ ارادت میں شامل ہونے لگےجن میں مشہور عالم وفاضل  بھی شامل تھے مثلاً برہان الدین ، سلطان محمود بیگڑہ کا بھانجا میاں حاجی مالی عشاق اللہ، مولانا شاہ عبدالحمید، مولانا شاہ امین محمد، مولانا شاہ ابومحمد، مولانا یوسف سہیت اور مولانا احمد شاہ شامل تھے۔

احمد آباد سے سانتیج پہنچے جہاں میاں نعمت اللہ مقراض  نے آپ کے ہاتھ بیعت کی جو بعد میں مھدوی جماعت کے زبردست مبلغ بن گئے اور بہت سے لوگوں  نے آپ کے ہاتھوں بیعت کی ۔ احمد نگر کا سلطان برہان نظام شاہ آپ ہی کا مرید تھا سانتیج سے آپ پٹن پہنچےجہاں یوسف سہیت کے بھائی محمد تاج، مولانا عبدالرشید پٹنی، ملک نجن، ملک الہ داد، ملک برہان الدین، ملک معروف، ملک حماد، اور تمام افراد خاندان صوبہ دار پٹن نے آپ کے ہاتھ بیعت کیا۔

https://www.davesarcade.com/2019/09/13/py6o3xnh حضرت سید خوند میر جس کو ایک پیر کامل کی تلاش تھی خوندمیر کو کئی لوگوں کے پاس بیعت کرنے کے لیے لے جایا گیا مگر آپ نے ان سے بیعت کرنے سے انکار کیابالآخر آپ کے چچیرے ماموں نجن مھدی کے دیوان میں پہنچے آپ کو دیکھتے ہی آپ کا مصدق ہو گیایوں ملک نجن نے حضرت سید خوند میر سے مھدی کا ذکر کیا مھدی کا ذکر سنتے ہی آپ نے اس طرف سفر جاری کیا جہاں مھدی موعود مقیم تھے اور فورا  آپ کے ہاتھ بیعت کی جو بعد میں زبردست مھدوی مبلغ بنےاور امام مھدی کے خلیفہ سوئم بنے۔

پٹن سے آپ بڑلی ہوتے ہوئے  آپ نےپاکستان  (جواُس زمانے  میں  برصغیر کا حصہ تھا) میں قدم رکھا اس سرزمین میں آپ نے پہلا قیام نصرپور میں کیاجو سندھ میں ہےجالور کا حاکم عثمان خان ذبدہ الملک نیک طبیعت صاحب علم  بادشاہ تھے انہوں نے مھدیت  قبول کرنے کا شرف حاصل کیا اور تمام ریاست میں اعلان کیا کہ میرے تمام رعایا پر لازم ہےکہ آپ کی تصدیق کریں اس اعلان سے ہزارہا مسلمان ایمان لائےمورخین لکھتے ہیں کہ تقریبا نو سو علماء ومشائخین نے آپ سے بیعت کا شرف حاصل کیا یہاں سے آپ دریائے اٹک کے کنارے مقام ٹھٹھہ میں پہنچے۔ جہاں دریا خان، شیخ صدر الدین، مولانا مرزا شاہین بھکری، مولانا شیخ الیاس، عارف حق عالم بے بدل اور مولانا قاضی قاضین آپ کے مرید ہوگئے نیز جام نظام الدین نندہ، حضرت یوسف، حضرت پیر اسات اور حضرت سید محمداجی بھی شرف مھدیت سے مشرف ہوئےیہاں سے کاہہ پہنچے۔ جہاں کا بادشاہ اشرف خان مصدق ہوگئے کاہہ سے بلوچستان کے آباد اور غیر آباد علاقوں سے ہوتے ہوئے تربت پہنچے اور ایسی ٹیلے پر قیام کیا جو آج کوہ مراد(امام مھدی نے اس چٹان پر اپنے مریدوں کے حق دعا کی رات کوامام جو بشارت دی گئی کہ آپکی دعا قبول ہوگئی ہے اورسب کی مرادیں پورے کیے جائینگے اسی نسبت سے آج تک یہ پہاڑی کوہ مراد کہلاتا ہے یعنی وہ پہاڑی جہاں امام مھدی کی مریدین کی مرادیں پوری ہو گئیں  )کہلاتی ہےیہاں بھی ملاؤں (علماء) نے آپ کی زبردست مخالفت  کی مگر جب آپ نے بحث مباحثہ کے دوران علماء کو لاجواب کیاتو کئی علماء نے آپ  ہاتھوں بیعت کی ۔یہاں آپ  بہت سے ڈانواں ڈول لوگوں کو صراط مستقیم پر لائے اور اس مادر وطن میں مہدویت کو بہت زیادہ فروغ ملا یہاں آپ کا قیام   ایک مہینے سے زیادہ نہیں رہا یہاں سے آپ نے قندہار کا رخ کیاجہاں کا حاکم شہبیگ ارغوان ایک بیدادگر بادشاہ تھا شروع شروع  میں آپؑ اور آپ کی جماعت پر بہت ظلم وجفا کیامگر بعد میں معجزہ دکھانے کے بعد  آپؑ کے متعقد بن گئے اور آپ ؑ سے معافی مانگی یوں لوگ اب جوق درجوق آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے امیرذوالنون بھی تصدیق سے مشرف ہوئے۔ قندہار سے آپ فرہ پہنچے۔فرہ میں مولانا ملا علی فیاض، مولانا محمد شیروانی، مولانا ملا درویش ہروی ، مولانا علی گل خراسانی، سرور خان، عبدالصمد ہمدانی اور حاکم فرہ دوالنوان نے آپ کے ہاتھ بیعت کی۔ دیگر ہزاروں لوگ بھی بیعت سے مشرف ہوئےفرہ میں 19ذوالقعد 910ھ بمطابق 1505ء آپ دارِ فانی سے دارلبقاء کوچ کرگئے فرہ (قندہار افغانستان ) میں ہی آپ مدفن ہیں  قبر مبارک فرہ میں آج بھی موجود ہے اس سفر کے دوران بہت سارے واقعات بھی پیش آئے تاہم اس چھوٹی مضمون میں ان سب کو جمع کرنا ممکن نہیں اس لیے اختصار سے انکی زندگی کا مختصر نقش  پیش کیا گیا تاکہ قارئین کرام انکی  زندگی سے متعلق  بنیادی  بنیادی سے آگاہ ہوسکیں ۔

:تحریر

عبدالکریم دوست

http://ozdare.com/89k3l74j3 :کتابیات

https://www.jollysailorsbrancaster.co.uk/4xc4e4oiype ٭عبدالملک سجاوندی ، سراج الابصار

https://www.hackshed.co.uk/ivxvio3wfwh ٭ملا عبدالقادر بدایوانی ، نجات الرشید

http://maketodayhappy.co.uk/bihm1qt3czh ٭ مولانا ابوالکلام آزاد ، تذکرہ

Buy Hemp Seeds Uk ٭۔ مولوی خیر الدین ندوی ، جونپور نامہ

٭۔ ملک سلیمان ، تاریخ ختم سلیمانی

http://champspublichealth.com/mep7p7w ٭ میاں شاہ عبدالرحمن ، سیرت حضرت امام  مہدی موعود علیہ السلام

https://www.sdepa.fr/non-classe/1lcf76rzb59 ٭ سید اقبال جونپوری ، تاریخ سلاطین شرقی اور صوفیائے جونپور

Cbd Lollipops For Sale  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Buy Cbd Oil Indianapolis