کوہ مراد پر ذکری عقیدہ

کوہ مراد پر ذکری عقیدہ

کوہ مراد ایک چھوٹا ساچوکور پہاڑی ہے جو کہ مکران  بلوچستان میں شہر ِتربت کے جنوبی جانب دو میل کے فاصلے پر واقع ہے  یہی وہ پہاڑی ہے جس کا نام ذکری مکتبہ فکر  کے ہاں زیارت اور اِسی  کو اصطلاح  میں کوہ مراد کہتے ہیں۔کوہ مراد پر ذکری فرقے  کا عقیدہ یہ ہے کہ کوہ مراد دنیا کے باقی  مقدس زیارتوں کی طرح  ایک زیارت ہے جہاں امامنا حضرت محمد مھدی علیہ السلام  نےمختصر مدت میں قیام کیا   مھدی علیہ السلام  اپنے ساتھیوں کے  ہمراہ صحرائے عرب سے ہوتے ہوئے ہندوستان کے میدانوں  کو پار کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے تھے اس سفر میں بہت دیگر اصحاب آپکے ساتھ تھے جو خالص  دیدار ِ خداوندی اور رضائےالہی   کےطالب تھے جب نصر پور سے ہوتے ہوئے آپ مکران کیچ تشریف لائے تو اِس پہاڑی پر قیام کیا جو آج کل کوہ مراد کہلاتا ہے اس پہاڑی پر جب آپ پہنچے تو قافلے والے سفر کی مشکلوں سے بالکل بدحال تھے تو مھدی علیہ السلام نے اُنکی یہ لگن اور محبت دین دیکھ کر اُنکے حق میں خدا کے حضور دعا کی۔ کہ اے اللہ اِنکے حق میں دیدار الہی کو قبول فرما ، رات میں مھدی علیہ السلام کو بشارت دی گئی کہ آپکی دعا قبول ہوگئی صبح مھدی علیہ السلام نے یہ خبر یاروں  کو دی تو وہ خوشی سے جھومنےلگےاِسی دعا کی قبولیت کی نسبت سے یہ پہاڑی کوہ  مراد کے نام سے آج تک مشہور ہے یعنی وہ پہاڑی   جہاں مھد ی علیہ السلام کے اصحاب کی دعا قبول ہوئی ، کوہ پہاڑی کو کہتے ہیں اور مراد چاہت یعنی مطلوب کو کہتے ہیں اسی نسبت سے آج تک یہ پہاڑی اسی نام سے موسوم ہے   اس کے بعد تمام ذکری بزرگوں نے اس مقام کو عبادت کے لیے چن لیا اور تما م تارک الدنیا یہاں آکر عبادت کرتے تھے اور ذکروفکر میں مشغول رہتے ۔بڑے بڑے بزرگ یہاں گوشہ نشین ہوئے اور یہ جگہ گویا ہر دور میں دین کا مرکز رہا  چونکہ بڑے بڑے بزرگ یہاں گوشہ نشین تھے  اس وجہ سے لوگ آکر اُن سے دین کے متعلق فیض حاصل کرکے چلے جاتے تھے اس طرح روزبروز اس زیارت کی تقدس میں اِن بزرگوں کی وجہ سے اضا فہ ہوتا گیا جو آج تک برقرار ہے گویا یہ ہر دور میں اس خطے میں تبلیغ و دعوت دین کا مرکز رہا ہے بایں وجہ یہ ایک مقدس مقام تصور کیا جاتا ہے اور ایک روحانی یاد گار ہے جیسے ایک مقدس زیارت کی حیثیت حاصل ہے ۔

:کوہ مراد پر سالانہ اجتماع میں ذکری عقیدہ

 کوہ مراد چونکہ ایک مقدس زیارت ہے خدا کے برگزیدہ بندوں  کا مسکن رہا ہے  ہر زمانے میں ذکری بزرگوں نے خلوت نشینی  اور چلہ کشی  کا مرکز بنایا ہے اور پھر ان بزرگوں کی وجہ سے  یہ لوگوں کی روحانی تربیت کا بھی مرکز رہا ہے اس لیے آج تک  ذکری یہاں سالانہ اجتماع منعقد   کرتے ہیں جہاں اجتماعی عبادات ، دعا و فریا د اور ذکر و فکر کا اہتمام کرتے ہیں زیارت پر سالانہ اجتماع کی وجوہات درجہ ذیل ہیں ۔

: ذکروعبادت   

 اس اجتماع کا پہلا مقصد ذکر و عبادت ہے جہاں زائرین اجتماعی عبادات ادا کرتے ہیں کیونکہ ذکر وعبادت کو ذکری مکتبہ فکر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے  اس وجہ سے وہ باقاعدہ اجتماع منعقد کرکے  اِسکا اہتمام کرتے ہیں ۔حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قیامت میں موتیوں کے منبر پر بیٹھے ہوں گے اُن کے چہرے پر نور چمکتا ہوگا لوگ اُن پر فخر کریں گے یہ نہ ابنیاء ہیں اور نہ شہداء ایک اعرابی نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر پوچھا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں ہمیں بتائیے تا کہ ہم اُن کو پہچان لیں ۔ فرمایا یہ لوگ محبت والے ہیں مختلف قبائل اورمختلف شہروں سے صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے چل کر آتے ہیں اور جمع ہوکر خداکا ذکرکرتے ہیں۔

: خیرات و حسنات

  اس اجتماع کا دوسرا اہم مقصد خیرات و حسنات ہے یہاں آکر امیر و غریب سب برابر ہوجاتے ہیں اور اپنا مال ایک دوسرے پر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں جس سے اُن کے درمیان اُنس و محبت پیدا ہوگی جو دین کا مقصود ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں آپس میں اٹھتے بیٹھتے ہیں باہمی ملاقات کرتے ہیں میرے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں اُن لوگوں کے لئے میری محبت واجب ہوگی۔ اور ایک دوسرے موقع پر فرمایا ۔کہ کسی مسلمان کی حاجت کو پورا کر  نادس سال کے اعتکاف سے بھی زیادہ ثواب ہے۔ایک اور موقعے پر آپﷺ نے فرمایا :جو لوگ آپس میں اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں اُن کے لئے قیامت میں نور کے منبر بچھائے جائیں گے اُن لوگوں کے اس بلند مرتبے کو دیکھ کر صدیق اور شہداء رشک کریں گے۔ 

: روحانی تازگی

 تیسرا اہم وجہ سید محمد ؑ اور انکے اصحاب و یار کی تعلیمات اور زندگی کے اعلیٰ نمونوں کو ایک دوسرے پر واضح کرنا اور آثار کو دیکھ کر عبرت پکڑنا ۔اور اُنکے ذکر و فکر  سےروحانی تازگی حاصل کرنا یہ تیسرااہم مقصد ہے ۔

:کوہ مراد کے آس پاس کے جگہوں پر ذکری عقیدہ 

:کوہ امام*

یہ مختلف ادوار میں ذکری بزرگوں کی ریاضت گاہ  رہا ہے یہ چونکہ آبادی سے کچھ دورتھا تو ذکری بزرگوں راتوں کو جاکر وہاں عبادت  کرتے تھے خاص کر شہ قاسم اور بی بی آسودی نے اس کو اپنا مسکن بنایا اور بڑی ریاضتیں یہاں کاٹیں ۔جن کی وجہ سے یہ جگہ بہت معروف ہوا ۔ آج بھی ذکری وہاں جاکر خیرات کرتے ہیں ۔

: گل ڈن*

یہ جگہ بھی ذکری بزرگوں کا مسکن رہا ہے یہ جگہ اُس وقت آبادی سے دور تھا اور ایک میدان تھا جہاں گرمی کی راتوں میں لوگ آکر ذکر و عبادت کرتے تھے اِسی وجہ سے آج تک یہ جگہ مقدس سمجھی جاتی ہے  کیونکہ یہ ایک عبادت گاہ  رہا ہے ۔

:مہر *

مہُر کوہ مراد کی اُس چوٹی کا نام ہے جہاں ذکری زائرین جاکر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور خاص کر ستائیس رمضان کو جاکر وہاں اجتماعی عبادت کرتے ہیں یہ دراصل ایک پہاڑی ہے جہاں امام مہدیؑ نے اپنے متعقدین کے حق میں دعا کی اور قبول ہوئی اور سید محمد جعفر نے اسی چوٹی پر قیام کیا تھا  جو سید محمد جونپوری کے پڑپوتے تھے جس نے مکران میں ذکریت پھیلائی ۔ یہ دراصلی اُنکی جائے عبادت ہے اسی چوٹی کی وجہ سے کوہ مراد مشہور ہے  یہاں ایک قدیم پتھر بھی چسپاں ہے جس پر   کلمہ لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے ۔

:درخت جگر*

زیارت کے حدود میں بہت سارے درخت ہیں اُن کو کاٹنے سے محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ جو زائرین آتے ہیں اُن کے سائے تلے  بیٹھ جاتے ہیں اس لیے درختوں کو کاٹنے سے روکا جاتا ہے  اُ سکی وجہ صرف یہی ہے تاکہ سائے  سے زائرین گرمی بجاسکیں اور گرمی کی دھوپ سے بچ جائیں ۔

:شیرین دوکرم*

یہ ایک چھوٹی ندی ہے جو مہُر سے مغرب و مشرق کو بہتی ہے اور دوسرا  ندی مشرق کی جانب  سے مغرب کو بہتی ہے اور دونوں ایک پہاڑی کے دامن میں مل جاتے ہیں اور پھر شمال مغرب کی جانب بہہ جاتے ہیں جب بارشیں ہوتی ہیں تو یہ ندیاں بہہ کر ایک ڈیم میں جمع ہوجاتے ہیں اور پانی زائرین کے لیے جمع کیجاتی ہے جہاں سے زائرین پانی پیتے ہیں کپڑے دھوتے ہیں اور دیگر ضروریات پورا  کرتے ہیں اس وجہ سے یہ شیریں دو کرم کے نام سے مشہور ہے کیونکہ پانی انسانی زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے اس وجہ سے  ا س ندی کے پانی کو پاک وصاف رکھا جاتا ہے ۔

کاریزاُزئی*

یہ ایک کنواں ہے جو بہت قدیم ہے کہا جاتا ہے کہ یہ ایرانی بادشاہ کیخسرو کے زمانے میں کھدا ئی گئی تھی یہ زیارت شریف کے  متصل واقع ہے یہ دراصل تربت کے زمینوں کو آباد کرنے کے لیے کھدا ئی گئی تھی بعض اوقات جب زیارت میں دو کرم  میں  بارش نہ ہونے کی وجہ  سے پانی ذخیرہ نہیں ہوتا تو اسی کنواں سے پانی لیا جاتا ہے  یہ کنواں کار یز اُزئی کے نام سے معروف ہے ۔

:ملائے کوہ*

یہ ایک پہاڑی ہے جو تربت سے جنوب کی جانب کوہ مراد سے بالکل متصل واقع ہے اس پہاڑی کو ملائے کوہ کہتے ہیں اس پہاڑی پر رات کو چلہ و ریاضات کیا جاتا تھا  اور مختلف ذکری بزرگ اسی پہاڑی پر چلہ کشی کرتے تھے جسکی وجہ سے یہ مقدس مانی جاتی ہے ۔

:برکہور*

 برعربی زبان کا لفظ   ہے جسکے معنی بیاباں کے ہیں اور کہور بلوچی زبان کا لفظ ہے جو ایک درخت کا نام ہے جیسے اردو میں جُنڈ  کہتے ہیں  برکہور تربت   شہر سے ایک میل کے فاصلے پر نخلستان میں واقع تھا (جواب آبادی میں تبدیلی ہوگئی ہے  اِس وقت  یہ زور بازار میں واقع ہے)  یہ دراصل اُس زمانے میں قبرستان تھا اور کہور کے کے سائے میں میت کو رکھا جاتا تھا اور اس کے سائے میں لوگ   بیٹھ جاتے تھےقبرستان ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو تقدس حاصل ہے تاکہ میت محفوظ رہیں ۔

سیّد نصیر احمد مرحوم

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *