شے حیدر علی ہم سے جدا ہو گئے

شے حیدر علی ہم سے جدا  ہو گئے

آنکھ  سے دور سہی دل سے کہا ں جائے گا

جانے والے  تو  ہمیں  یاد بہت  آئے گا

 یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے منزل نہیں ، منزل تو معاد ہے اس لیے فرقت یہاں گراں نہیں ہے  ، حقیقی درد ِ مفارقت تب محسوس ہوگی جب منزلِ حقیقی   میں ایک دوسرے سے ہجراں ہو جائے ، جسم تو جسم سے جدا ہو جاتے ہیں  یہ ایک  اٹل حقیقت ہے فراق نہیں ،فراق تو یہ ہے کہ روح کا تعلق روح سے ٹوٹ جائے یہ وہ جدائی ہے جو دردناک و المناک ہےاور نا قابل برداشت بھی ، واجہ شے حید ر علی مرحوم  جسم خاکی سے تو ہم سے بچھڑ گئے لیکن روح کا تعلق باقی ہے آنکھ سے   دور سہی دل سے  کہا جائے گا تو ہمیں قدم قدم پہ یاد آئے گا  ، واجہ شے حیدر مرحوم ہمارے لیے متاع  گراں بہا تھے انکی جدائی سے ہم یقیناً ایک عظیم رہنماء سے محروم ہوگئے  وہ ہمارے لیے مشعل راہ تھے منزل شناس تھے اور ہمارے درماندہ کاروں کےنور افشاں  تھے۔

 بقو ل شاعر

ہمارے درماندہ کارواں   میں  وہ ایک   متاع  ِ گراں  بہا تھا

ہزاروں  راستوں کی الجھنیں ہوں وہ پھر بھی امید کی دراء تھا

انکی جدائی سے ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہردل سوگوار ہے شے حیدر علی مرحوم ایک اندوہ ربا  اور ہر دلعزیز انسان تھے    انسانیت کے لیے انکی کوششیں اور خواہشیں لائق ہزار ستائش ہیں بقول گلاب جان وہ انسان کی روپ میں فرشتے تھے  انکے ساتھ میرے دیرانہ تعلقات قائم تھے اُن سے بات چیت ہوتی رہتی تھی چند برس سے وہ شدید بیمار تھے اس بیماری کے دوران اُن سے جب بھی بات ہوئی تو ان کو خوش پایا  ، بہت ہی خوش نہار انسان تھے کبھی ناشکری نہیں کیا ،وہ اپنی زندگی کے کارناموں سے مطمئن تھے سانس رمق تک شکر ِ خداوندی بجالاکر دنیا سے رخصت ہوگئےاور اپنے  خالق  سے یہ کہہ کو چ کر گئے کہ

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

اے کہ تیری خوشی مقدم ہے

انہوں نے خدا کی خوشی و رضا کو مقدم رکھا اور خواہشات انسان کو موخر ، اور یہ کہہ کر خدا سے جاملے  کہ اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے تیری خوش مقدم ہے تو لیجانا چاہتا ہے تو میں حاضر ہوں وہ جہاں سے آئے تھے وہاں چلے گئے لیکن ہم جیسے نوحہ کنان عزیزوں کا  ایک جم ِ غفیر چھوڑ کر چلے گئے انکی ناگہانی موت کی  خبر  22 مارچ  2018 کو جب میرے دل نواز دوست  گلاب جان  نے مجھے دی تو دل ِ ناشاد پر جو کیفیت طاری ہوا ، الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں مغموم و آزردہ ہوکر آہ  و بکا  کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا     میں ہی نہیں ہمارے تما م دوست اس فرقت سے سخت ذہنی خلفشار کے شکار ہوئے  بس ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہے گلاب جان کی حالت ہم سے بدتر تھی جب ڈاکٹر حیات علی ساجدی کا یہ پیغام انہیں موصول ہوا کہ شے حیدر ہم میں نہیں رہے تو  بے اختیار ٹپکتے ہوئے آنسوؤں نے  انکا حال ِدل بتاکر اخفائے راز افشاکر دیے

دل کی ہر بات کہہ گئےآنسو

گر کہ آنکھوں سے رہ گئےآنسو

 لیکن قرآنی تعلیمات نے  ہمیں تسلی دی اور کہا یہ فراق نہیں وصال ہے تیرا ہم نشین منزل تک پہنچ گیا خوشی کا موقع ہے غم کا نہیں اگر تم دنیا کی حقیقت کو جانتے ہو اس طرح دل کی تسلی حقیقت میں تبدیل ہوئی اور اب یقین ہوگیا کہ یہ واقعی فراق نہیں وصال ِ یار ہے اپنی  اس لغزش پر بحضور ربی دست بدعا ہوا ۔

شکوہِ غم تیرے حضور کیا

ہم  نے بے شک بڑا قصور کیا

یا اللہ تو ہی انسان  کے حق میں بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور تیرے ہر فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم ہے لیکن  غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا اور اپنے ساتھ مسیحائی لے گیا اس کا ازالہ  کون کرے گا ۔

غم دے گیا  نشاط شناسائی لے گیا

وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا

جواب ملا، اللہ اپنے بندوں کے لیے ایک مسیحا لیجاتا ہے تو دوسرے کا انتظام خود کر لیتا ہے اس کے لیے آہ وبکا کی ضرورت نہیں یہ خدا کی ذمہ داری  ہے خدا نبھا کر رہے گا لیکن دل سے پھرصدا نکلی ،

رونق ِبزم نہیں تھا  کوئی تجھ سے پہلے

رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

پھر جواب ملا  ، آپ کو تومعلوم ہے کہ دنیا امتحان کے اصول پر قائم ہے یہاں بزم ِرونق مقصود نہیں مقصود معاد تک کامیابی کے ساتھ پہنچنا ہےاور جو انسان اس سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کرلے  وہ بہت ہی خوش نصیب انسان ہوگا اور یہ دنیا میں انکے رفقاء آسانی سے طے کرسکتے ہیں کہ کوئی شخص اس سفر میں منزل تک پہنچ گیا یا راستے میں رہ گیا ،شے صاحب کے بارے میں یہ میرا گمان  نہیں نور  ِ ایقان  ہے کہ وہ منزل تک پہنچ گیا اس لیے کہ وہ نہایت ہی نیک انسان تھے اور دن رات خلق خدا  کی خدمت انکا شیوہ تھا  مخلوق کے درمیان صلح کرانا ایک ایسی ناپید عمل ہے جو ہزاروں میں سے ایک انسان اس بوجھ کو اٹھانے پر قادر ہوگا لیکن شے صاحب ہزاروں میں سے ایک تھے   جو نہ صرف لوگوں کے درمیان صلح کرواتے تھے بلکہ زندگی کے اکثر  اوقات اسی کوششوں میں گزارتے تھے اس لیے میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ شے صاحب کامیابی سے حیات مستعار سے رحلت کرکے جاوداں ہوگئے  ہم نہ ملتے ہوئے  جسمانی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے  لیکن روحانی طور پر ہمیشہ ساتھ رہینگے   بلکہ یہ بھی یقین ہے  کہ ایک دن دوبارہ جسمانی طور پر بھی ملاقات ہوگی کیونکہ

بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے اُمید ملنے کی

سنا ہے روح کو آنا ہےپھر بدن کی طرف

شے حید ر مرحوم  بہت ہی اخمس اور بے خوف انسان تھے اپنی رائے کا اظہار نہایت ہی بیباک ہوکر کرتے تھے حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا  انکا شعار تھا  اپنے ایک مضمون میں انہوں نے علامہ اقبال کا  یہ  شعر سید عیسی نوری صاحب کے لیے لکھا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی مثل ِ نوری صاحب اس  کے  مصداق تھے

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

شے  مرحوم میں سب سے اہم اور بڑی خوبی جو میں نے  محسوس کیا وہ یہ ہے کہ وہ اناپرست اور شخصیت  پرست نہ تھے ہر چیز کو خالص علم و عقل کی میزان میں پرکھنے کےقائل تھے  اور جدت پسند انسان تھے وہ  کہتے تھے کہ اناپرستی ہم میں سب سے بڑ ی بیماری ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ فضول جھگڑے

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں

وہ  انا کےان جھگڑوں سے بچے ہوئے تھے  اور ایک   مخلص سپاہی کی مانند میدان علم میں تادم ِ مرگ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کھڑے رہے اگرچہ اس راستے میں مشکلات ان کے سامنے بہت زیادہ تھے  اور سامان سفر بھی ناپید مگر   مثل مومن بے تیغ سپاہی کی طرح میدان میں آخری وقت تک موجود رہے

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

وہ قدامت پسند اسلامیوں  سے  اگر چہ  بحت  و  مباحثہ کرتے تھے مگر اس معاملے میں انکا طرہ امتیاز یہ تھا کہ ان کو اس بات  کا شدید احساس تھا کہ یہ قدامت پسند کتنے سخت مزاج لوگ ہیں اور کس طرح ان سے بات کرنا ہے اور اپنی موقف کو  کس طرح ان سے منوانا ہے بقول جان

جون اسلامیوں سے بحث نہ کر

تند   ہیں  یہ ثمود و عاد بہت

جسم ِخاکی کو ہر صورت میں حقیقی انسانی یعنی روح سے جدا ہونا ہے لیکن وہ لوگ جسمانی طور پر  پر واز کرنے کے بعد بھی اس دنیا میں باقی رہ جاتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی خدمت خلق میں صرف کی ہو اور اپنے فکر سے معاشرے کونفع پہنچایا   ہو ،بقول میرے عزیز دوست گلاب جان وہ ہمیشہ  ہمیں  خدمت خلق کی تلقین کرتے تھے    گلاب جان نے مجھے بتا یا کہ ایک مرتبہ جب میں انکے پاس گیا  تو نہایت ہی شفقت  کے ساتھ باپ کے روپ میں مجھے ہدایت  کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا گلاب جان  جو کچھ میں  اور واجہ عیسی نوری اس قوم کے لیے کرسکے ہم نے کیا اب یہ بوجھ ہم آپ نوجوانوں  کے حوالے کر رہے ہیں قوم کی خدمت کرو اور سب سے پہلے شمع بصیرت کا دوبارہ آغاز کرو ہماری  دعائیں آپکے ساتھ ہیں  ہمیں خوشی ہے کہ انکی زندگی میں ہی ہم نے انکی یہ خواہش پوری کردی ،  شے صاحب نہایت ہی متدبر انسان تھے اور غیر معمولی سوچ کے مالک تھے  انکے افکار تاابد زندہ رہینگے وہ یہ قلمدان ہمیں دے کر روانہ ہوگئے

نئی نسلوں  کے ہاتھوں  میں بھی تابندہ رہے گا

 میں مل جاؤنگا  مٹی میں  قلم  زندہ  رہے  گا

انکی کوششیں اور خواہشیں راہ ئیگاں نہیں ہونگے بلکہ یہ فکر پژمردہ ِشجر کو پھر سےزیست دینے کا کام دیگی اور ایک ایسا نور جلوہ افروز ہو گاجو معاشرتی جہل  ِمرکب کو ختم کرنے میں کارگر ثابت ہوگا ۔اُن کو بھی اس بات کا یقین تھا   اور برملا کہتے تھے کہ جس چیز کو وہ اس وقت جنون سمجھتے ہیں وہ مثل نور اس معاشرے میں ظاہر ہو گا ۔

مرے جنوں  کا نتیجہ ضرور نکلے گا

اسی سیاہ ِسمندر سے  نور نکلے گا

 شے صاحب نہایت ہی صابر اور متوکل انسان تھے وہ ہر معاملے میں خدا پر بھروسہ کرتے تھے اور انسانی غلطیوں  کا اعتراف کرتے ہو ئے پکار پکار کر خدا سے التجا کرتے تھے   کہ

گو ید اے بندہ ِ ناپاک تو سبحان اللہ

نرسد عقل بہ ادراک ِ تو سبحان اللہ

واجہ شے حیدر علی 15 مارچ 1957 میں تربت میں پیدا ہوئے تھے اور22 مارچ 2018 میں  میں کراچی میں فوت ہوئے ان کو انکے آبائی شہر تربت  شیحانی  بازار میں دفن کیا گیا   میں   اپنے  ادارے کی جانب سے اُن کو خراج عقیدت  پیش کرتا ہوں  اور  ہم سب انکے حق میں مغفرت کی دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو اپنی جوار ِرحمت میں جگہ دے اور انکے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

تحریر:

سیّد عبدالکریم دوست

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *