شے حیدر علی ہم سے جدا ہو گئے

شے حیدر علی ہم سے جدا  ہو گئے

آنکھ  سے دور سہی دل سے کہا ں جائے گا

https://www.environmentalhealthproject.org/9zio96d جانے والے  تو  ہمیں  یاد بہت  آئے گا

http://champspublichealth.com/aqft6yrit  یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے منزل نہیں ، منزل تو معاد ہے اس لیے فرقت یہاں گراں نہیں ہے  ، حقیقی درد ِ مفارقت تب محسوس ہوگی جب منزلِ حقیقی   میں ایک دوسرے سے ہجراں ہو جائے ، جسم تو جسم سے جدا ہو جاتے ہیں  یہ ایک  اٹل حقیقت ہے فراق نہیں ،فراق تو یہ ہے کہ روح کا تعلق روح سے ٹوٹ جائے یہ وہ جدائی ہے جو دردناک و المناک ہےاور نا قابل برداشت بھی ، واجہ شے حید ر علی مرحوم  جسم خاکی سے تو ہم سے بچھڑ گئے لیکن روح کا تعلق باقی ہے آنکھ سے   دور سہی دل سے  کہا جائے گا تو ہمیں قدم قدم پہ یاد آئے گا  ، واجہ شے حیدر مرحوم ہمارے لیے متاع  گراں بہا تھے انکی جدائی سے ہم یقیناً ایک عظیم رہنماء سے محروم ہوگئے  وہ ہمارے لیے مشعل راہ تھے منزل شناس تھے اور ہمارے درماندہ کاروں کےنور افشاں  تھے۔

Buy Hemp Oil Brisbane  بقو ل شاعر

https://www.sdepa.fr/non-classe/ya1fjh0 ہمارے درماندہ کارواں   میں  وہ ایک   متاع  ِ گراں  بہا تھا

https://www.davesarcade.com/2019/09/13/esjgeoov7y3 ہزاروں  راستوں کی الجھنیں ہوں وہ پھر بھی امید کی دراء تھا

https://www.hackshed.co.uk/b1js2deu انکی جدائی سے ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہردل سوگوار ہے شے حیدر علی مرحوم ایک اندوہ ربا  اور ہر دلعزیز انسان تھے    انسانیت کے لیے انکی کوششیں اور خواہشیں لائق ہزار ستائش ہیں بقول گلاب جان وہ انسان کی روپ میں فرشتے تھے  انکے ساتھ میرے دیرانہ تعلقات قائم تھے اُن سے بات چیت ہوتی رہتی تھی چند برس سے وہ شدید بیمار تھے اس بیماری کے دوران اُن سے جب بھی بات ہوئی تو ان کو خوش پایا  ، بہت ہی خوش نہار انسان تھے کبھی ناشکری نہیں کیا ،وہ اپنی زندگی کے کارناموں سے مطمئن تھے سانس رمق تک شکر ِ خداوندی بجالاکر دنیا سے رخصت ہوگئےاور اپنے  خالق  سے یہ کہہ کو چ کر گئے کہ

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

https://www.jollysailorsbrancaster.co.uk/70aweifslod اے کہ تیری خوشی مقدم ہے

https://reproductivepsych.org/smvpcs2dii0 انہوں نے خدا کی خوشی و رضا کو مقدم رکھا اور خواہشات انسان کو موخر ، اور یہ کہہ کر خدا سے جاملے  کہ اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے تیری خوش مقدم ہے تو لیجانا چاہتا ہے تو میں حاضر ہوں وہ جہاں سے آئے تھے وہاں چلے گئے لیکن ہم جیسے نوحہ کنان عزیزوں کا  ایک جم ِ غفیر چھوڑ کر چلے گئے انکی ناگہانی موت کی  خبر  22 مارچ  2018 کو جب میرے دل نواز دوست  گلاب جان  نے مجھے دی تو دل ِ ناشاد پر جو کیفیت طاری ہوا ، الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں مغموم و آزردہ ہوکر آہ  و بکا  کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا     میں ہی نہیں ہمارے تما م دوست اس فرقت سے سخت ذہنی خلفشار کے شکار ہوئے  بس ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہے گلاب جان کی حالت ہم سے بدتر تھی جب ڈاکٹر حیات علی ساجدی کا یہ پیغام انہیں موصول ہوا کہ شے حیدر ہم میں نہیں رہے تو  بے اختیار ٹپکتے ہوئے آنسوؤں نے  انکا حال ِدل بتاکر اخفائے راز افشاکر دیے

http://www.cancercareinc.org/ps2rojfqhc دل کی ہر بات کہہ گئےآنسو

http://santondownham.org/3g9cuv1 گر کہ آنکھوں سے رہ گئےآنسو

 لیکن قرآنی تعلیمات نے  ہمیں تسلی دی اور کہا یہ فراق نہیں وصال ہے تیرا ہم نشین منزل تک پہنچ گیا خوشی کا موقع ہے غم کا نہیں اگر تم دنیا کی حقیقت کو جانتے ہو اس طرح دل کی تسلی حقیقت میں تبدیل ہوئی اور اب یقین ہوگیا کہ یہ واقعی فراق نہیں وصال ِ یار ہے اپنی  اس لغزش پر بحضور ربی دست بدعا ہوا ۔

Buy 1000Mg Cbd Oil شکوہِ غم تیرے حضور کیا

http://maketodayhappy.co.uk/763qcco5b ہم  نے بے شک بڑا قصور کیا

Cbd Oil Michigan Purchase یا اللہ تو ہی انسان  کے حق میں بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور تیرے ہر فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم ہے لیکن  غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا اور اپنے ساتھ مسیحائی لے گیا اس کا ازالہ  کون کرے گا ۔

غم دے گیا  نشاط شناسائی لے گیا

Buy Wholesale Cbd Oil وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا

Cbd Oil Canada Border جواب ملا، اللہ اپنے بندوں کے لیے ایک مسیحا لیجاتا ہے تو دوسرے کا انتظام خود کر لیتا ہے اس کے لیے آہ وبکا کی ضرورت نہیں یہ خدا کی ذمہ داری  ہے خدا نبھا کر رہے گا لیکن دل سے پھرصدا نکلی ،

http://ozdare.com/gavoqzk رونق ِبزم نہیں تھا  کوئی تجھ سے پہلے

http://www.himalayanecolodges.com/qt1bwscp7 رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

http://santondownham.org/4li13ag6ph پھر جواب ملا  ، آپ کو تومعلوم ہے کہ دنیا امتحان کے اصول پر قائم ہے یہاں بزم ِرونق مقصود نہیں مقصود معاد تک کامیابی کے ساتھ پہنچنا ہےاور جو انسان اس سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کرلے  وہ بہت ہی خوش نصیب انسان ہوگا اور یہ دنیا میں انکے رفقاء آسانی سے طے کرسکتے ہیں کہ کوئی شخص اس سفر میں منزل تک پہنچ گیا یا راستے میں رہ گیا ،شے صاحب کے بارے میں یہ میرا گمان  نہیں نور  ِ ایقان  ہے کہ وہ منزل تک پہنچ گیا اس لیے کہ وہ نہایت ہی نیک انسان تھے اور دن رات خلق خدا  کی خدمت انکا شیوہ تھا  مخلوق کے درمیان صلح کرانا ایک ایسی ناپید عمل ہے جو ہزاروں میں سے ایک انسان اس بوجھ کو اٹھانے پر قادر ہوگا لیکن شے صاحب ہزاروں میں سے ایک تھے   جو نہ صرف لوگوں کے درمیان صلح کرواتے تھے بلکہ زندگی کے اکثر  اوقات اسی کوششوں میں گزارتے تھے اس لیے میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ شے صاحب کامیابی سے حیات مستعار سے رحلت کرکے جاوداں ہوگئے  ہم نہ ملتے ہوئے  جسمانی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے  لیکن روحانی طور پر ہمیشہ ساتھ رہینگے   بلکہ یہ بھی یقین ہے  کہ ایک دن دوبارہ جسمانی طور پر بھی ملاقات ہوگی کیونکہ

https://www.hackshed.co.uk/qtkvg5z5 بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے اُمید ملنے کی

سنا ہے روح کو آنا ہےپھر بدن کی طرف

شے حید ر مرحوم  بہت ہی اخمس اور بے خوف انسان تھے اپنی رائے کا اظہار نہایت ہی بیباک ہوکر کرتے تھے حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا  انکا شعار تھا  اپنے ایک مضمون میں انہوں نے علامہ اقبال کا  یہ  شعر سید عیسی نوری صاحب کے لیے لکھا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی مثل ِ نوری صاحب اس  کے  مصداق تھے

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

https://www.jollysailorsbrancaster.co.uk/4gibzkbqimr نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

شے  مرحوم میں سب سے اہم اور بڑی خوبی جو میں نے  محسوس کیا وہ یہ ہے کہ وہ اناپرست اور شخصیت  پرست نہ تھے ہر چیز کو خالص علم و عقل کی میزان میں پرکھنے کےقائل تھے  اور جدت پسند انسان تھے وہ  کہتے تھے کہ اناپرستی ہم میں سب سے بڑ ی بیماری ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ فضول جھگڑے

http://maketodayhappy.co.uk/etlp2ls5s7 قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں

http://www.anrc-uk.com/1tidc6ebpy وہ  انا کےان جھگڑوں سے بچے ہوئے تھے  اور ایک   مخلص سپاہی کی مانند میدان علم میں تادم ِ مرگ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کھڑے رہے اگرچہ اس راستے میں مشکلات ان کے سامنے بہت زیادہ تھے  اور سامان سفر بھی ناپید مگر   مثل مومن بے تیغ سپاہی کی طرح میدان میں آخری وقت تک موجود رہے

http://www.cancercareinc.org/lnf4efan5r4 کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

وہ قدامت پسند اسلامیوں  سے  اگر چہ  بحت  و  مباحثہ کرتے تھے مگر اس معاملے میں انکا طرہ امتیاز یہ تھا کہ ان کو اس بات  کا شدید احساس تھا کہ یہ قدامت پسند کتنے سخت مزاج لوگ ہیں اور کس طرح ان سے بات کرنا ہے اور اپنی موقف کو  کس طرح ان سے منوانا ہے بقول جان

جون اسلامیوں سے بحث نہ کر

تند   ہیں  یہ ثمود و عاد بہت

جسم ِخاکی کو ہر صورت میں حقیقی انسانی یعنی روح سے جدا ہونا ہے لیکن وہ لوگ جسمانی طور پر  پر واز کرنے کے بعد بھی اس دنیا میں باقی رہ جاتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی خدمت خلق میں صرف کی ہو اور اپنے فکر سے معاشرے کونفع پہنچایا   ہو ،بقول میرے عزیز دوست گلاب جان وہ ہمیشہ  ہمیں  خدمت خلق کی تلقین کرتے تھے    گلاب جان نے مجھے بتا یا کہ ایک مرتبہ جب میں انکے پاس گیا  تو نہایت ہی شفقت  کے ساتھ باپ کے روپ میں مجھے ہدایت  کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا گلاب جان  جو کچھ میں  اور واجہ عیسی نوری اس قوم کے لیے کرسکے ہم نے کیا اب یہ بوجھ ہم آپ نوجوانوں  کے حوالے کر رہے ہیں قوم کی خدمت کرو اور سب سے پہلے شمع بصیرت کا دوبارہ آغاز کرو ہماری  دعائیں آپکے ساتھ ہیں  ہمیں خوشی ہے کہ انکی زندگی میں ہی ہم نے انکی یہ خواہش پوری کردی ،  شے صاحب نہایت ہی متدبر انسان تھے اور غیر معمولی سوچ کے مالک تھے  انکے افکار تاابد زندہ رہینگے وہ یہ قلمدان ہمیں دے کر روانہ ہوگئے

نئی نسلوں  کے ہاتھوں  میں بھی تابندہ رہے گا

 میں مل جاؤنگا  مٹی میں  قلم  زندہ  رہے  گا

انکی کوششیں اور خواہشیں راہ ئیگاں نہیں ہونگے بلکہ یہ فکر پژمردہ ِشجر کو پھر سےزیست دینے کا کام دیگی اور ایک ایسا نور جلوہ افروز ہو گاجو معاشرتی جہل  ِمرکب کو ختم کرنے میں کارگر ثابت ہوگا ۔اُن کو بھی اس بات کا یقین تھا   اور برملا کہتے تھے کہ جس چیز کو وہ اس وقت جنون سمجھتے ہیں وہ مثل نور اس معاشرے میں ظاہر ہو گا ۔

مرے جنوں  کا نتیجہ ضرور نکلے گا

اسی سیاہ ِسمندر سے  نور نکلے گا

 شے صاحب نہایت ہی صابر اور متوکل انسان تھے وہ ہر معاملے میں خدا پر بھروسہ کرتے تھے اور انسانی غلطیوں  کا اعتراف کرتے ہو ئے پکار پکار کر خدا سے التجا کرتے تھے   کہ

گو ید اے بندہ ِ ناپاک تو سبحان اللہ

نرسد عقل بہ ادراک ِ تو سبحان اللہ

واجہ شے حیدر علی 15 مارچ 1957 میں تربت میں پیدا ہوئے تھے اور22 مارچ 2018 میں  میں کراچی میں فوت ہوئے ان کو انکے آبائی شہر تربت  شیحانی  بازار میں دفن کیا گیا   میں   اپنے  ادارے کی جانب سے اُن کو خراج عقیدت  پیش کرتا ہوں  اور  ہم سب انکے حق میں مغفرت کی دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو اپنی جوار ِرحمت میں جگہ دے اور انکے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

تحریر:

سیّد عبدالکریم دوست

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *