دینِ  خدا  دینِ مُلا

دینِ  خدا  دینِ مُلا

Cbd Oil Canada Border دین خدا ایک آفاقی دین ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن دین مُلا کے بارے میں کیسے باور کرلوں  کہ یہ آفاقی دین ہے اس میں تو اپنے سوا کسی کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بلکہ  اس دین میں سب سے آسان کام کفر کا فتویٰ جاری کرنا ہے میں کیسے باور کرلوں کہ یہی دین ِ خدا ہے خدا کا اقرار ہے میں تمام مخلوقات کا رب ہوں۔[1] لیکن دین مُلا میں خدا صرف  کلمہ گو مسلمان کا رب ہے دین خدا میں انسان عزت و اکرام کا پیکر ہے[2] جبکہ دین مُلا میں صرف مذہبی جنونیت رکھنےوالے لوگ ہی  عزت ووقار کے حقدار ہیں دین خدا   میں  لااکرہ فی الدین کے ابدی قانون کے تحت تمام انسانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے[3] جبکہ دین مُلا میں ہرغیر مسلم کو طاقت ہونے کی صورت میں  زیر کرنا اور آبائی مذہب سے ہٹانا ان کی ذ مہ داری ہے جبکہ اسلام سے تعلق رکھنے والے لوگ  اگر اسلامی تعلیمات سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں اسلام سے خفا ہوکر کسی دوسری مذہب میں داخل ہوئے تو اس کے لیے سزا موت ہے۔    دین خدا میں معاشرتی نظام کا معیار عدل وانصاف ہے [4]جبکہ دین  مُلا میں معاشرتی نظام کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے اور اسی بنیاد پر لوگوں سے سلوک کیا جاتا  ہے ۔دین مُلا میں جنت کا دارمدار صرف زبان سے  لاالہ الااللہ  محمد رسول اللہ کا اقرار ہے جبکہ دین ِ خدا میں کامیابی کا دارومدار  کلمہ حق کو دل کی صداقت سے مان لینے اور اس پر عمل  پر ہے اور پھر ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے الگ الگ معیار ہے ۔ [5]جبکہ دین مُلا میں غیر مسلموں کے لیے جنت کا کوئی امکان ہی نہیں بھلے کتنے نیک کیوں نہ ہوں  ان کو ہر صورت میں دوزخ جاناہے ۔ دین مُلا میں ہر فرد جب چاہیے اٹھے اور دین کی دعوت شروع کردے جبکہ دین خدا میں اس کے لیے ایک معیار مقرر کیا گیا ہے اور تقاضا کیا گیا ہے کہ معاشرے میں چند لوگ اس دین کی تعلیم حاصل کریں اور پھر ساری زندگی اس کام کے لیے وقف کردیں[6] اور لوگوں کو چاہیئے کہ ان کی نصرت کریں  ۔دین خدا میں اختلاف ایک رحمت ہے اور حق تک پہنچنے کا راستہ[7] جبکہ دین مُلا میں  اختلاف ایک جرم ہے   جس پر کڑی سزا دی جاتی ہے  ۔ دین خدا میں مرد و عورت میں انسان ہونے کے ناطے کوئی فرق نہیں ہے جبکہ دین مُلا میں عورت محکوم ہے اور مرد حاکم ۔ دین خدا میں قرآن مجید  کی جمع و تدوین کی ذمہ اللہ تعا لیٰ نے لی ہے اور  اپنے اس دعوے کے مطابق  کہ انہ جمعہ و قرآنہ ثم انہ و بیانہ آپ ﷺ  کی وفات سے پہلے قرآن مجید  کو جمع کرکے  ترتیب دیکر ایک کتابی صورت میں جاری کردیا  ، قرآن مجید کی ترتیب  جمع و تدوین سب مکمل کرکے اللہ کے پیغمبر اس دنیا سے رخصت ہو گئے[8]  جبکہ دین مُلا  میں اللہ تعالیٰ اور پیغمبر نے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کی بلکہ حضرت ابو بکر  نے  جنگ یمامہ کے بعد یہ محسوس کی  کہ قرآن مجید ضائع ہور رہا ہے تو انہوں نے یہ ذمہ داری پوری کی تاہم یہ ذمہ دری بھی    حضرت عمر کی اصرار پر پوری کی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت عمر  زور نہ دیتے تو قرآن مجید ضائع ہو جاتا ۔  خدا کے دین کا ماخذ قرآن و  سنت سابقہ ہے[9] جبکہ مُلا کی دین کا ماخذ  جھوٹی احادیث اور ان کے اباواجداد ہیں  ۔ دین خدا کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا اور اختتام حضرت محمد ﷺ سے ہوا   اور اس دین کا آخری کتاب قرآن مجید ہے[10] جبکہ دین مُلا  کا آغاز آپﷺ سے ہوا اور قرآن مجید اس دین کی پہلی کتاب ہے ۔ دین   خدا میں تمام انسانوں سے محبت شفقت اور غمگساری  کار شتہ قائم کرنا بندہ خدا کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ اپنی بہترین اخلاق سے ان کو دین کی طرف مائل کیا جا سکے ۔[11] جبکہ دین مُلا میں  غیر مسلم  سے رشتہ قائم کرنا منع ہے اور یہ نعرہ دین مُلا میں بنیادی جزؤ کی حیثیت رکھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے اس لیے ان سے قطع تعلق  مسلمانوں کی ذ مہ داری ہے ۔ دین  خدا میں فرقہ پرستی کی بنیاد پر حق کاتعین کرنا سب سے بڑا جرم ہے [12]اور اسی جرم کی پاداش میں بنی اسرائیل کو امامت سے سبکدوش ہونا پڑا جبکہ دین مُلا میں کسی ایک فقہی مسلک سے وابستہ ہونا ضروری ہے اور پھر آنکھیں بند کرکے صرف اُسی کی پیروی کرنا  ہی عین اسلام ہے ۔ دین   خدا میں محض دو صورتوں میں صرف ریاست ہی  کسی کو قتل کرنے کا مجاز ہے یعنی قصاص اور فساد فی الارض کی صورت میں[13] ۔جبکہ دین مُلا میں  جب چاہو کسی بھی مجرم کو   محض معمولی اختلاف کی بنیاد پر   بغیر ریاستی شرط کے قتل کردو  اور توہین مذہب  کا الزام اُن پر لگادو تو آپ اس جرم سے بری ہو جاتے ہیں۔ دین خدا میں اقتدار و حکمرانی کا معیار اخلاقی بلندی اور پستی پر ہے یعنی جو قوم اخلاقی بلندیوں کو چھو لے گا ان کو اقتدار دی جائے گی اور جو اخلاقی پستی کا شکار ہوگا  اس سے اقتدار چھین لی جائے گی[14]  جبکہ دین مُلا میں اقتدار کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے  اور خلافت قائم کرنا مسلمانوں کی ذ مہ داری ہے  باقی اقوام  محکوم رہ کر ہی اس دنیا میں جینے کا حق رکھتے ہیں ورنہ ان کو طاقت کے ذریعے  کچل دیا جائے گا ۔  دین خدا میں تمام مذاہب کی احترام کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ دین مُلا میں باقی مذاہب کے لوگوں سے دوہری رویہ اختیار کرنا عین اسلامی ہے ۔ دین خدا میں عقائد کے بعد اخلاقیات   سب سے نمایاں ذمہ داری ہے جسکی تعلیم دی گئی ہے [15]جبکہ دین مُلا میں عقائد کے بعد عبادات کا درجہ ہے  جس کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ اس قدر  اخلاقی پستی کا شکار ہے ۔  دین خدا میں نماز   یوم الست کے دن کی گئی وعدے   پر پابند ہونے کا  علامتی اظہار ہے اور اس بات کی یقین دہانی ہے کہ اُس وعدے سے میں  غافل نہیں ہوں  جو یوم الست کے دین مجھ سے لیا گیا تھا ۔بلکہ میں اب بھی تیرا  بندں ہوں اور بندے کی حیثیت سے جینا چاہتا ہوں[16] جبکہ دین مُلا میں  نماز ایک تعریف کے شوقین رب   کی تعریف و ثناء ہے  اور ایک رسمی عبادت ہے جو کی جاتی ہے ۔  عملی دنیا میں اس کا کوئی کردار نہ دیکھا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے ۔ دین خدا میں اسلام اور کفر کا تعلق قلب سے ہے اور یہ صرف خدا کے لیے ممکن ہے کہ قلب کا حال جان سکے ۔ اس لیے دینِ خدا   میں جو مسلمان ہونے کا دعویدار  ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی اس حق کا مجاز ہے کہ کسی کو  کافر یا مسلمان ڈکلئیر کر دے ۔ [17]جبکہ دین مُلا  میں چار حرف پڑھنے والا ہر مولوی اس بات کا مجاز ہے کہ جب  محسوس کرے  کہ اگر کوئی شخص خلاف شریعت  کام  کر رہا ہے تو بلا جھجک اُسے کافر ڈکلئیر کردے ، اور یہ خلاف ِ شریعت کا معیار بھی انہی کا طے شدہ ہے ۔ دین   خدا میں    میں رمضان کے روزے بھوک کی احساس دلانے کے لیے انسان کے اندر  انسانیت کا رشتہ قائم کرنے کے لیے  فرض کیے گئے ہیں جبکہ دین ِ مُلا میں رمضان کے روزے  محض ایک رسمی عبادت  کے طور رکھے جاتے ہیں ۔ دین خدا میں  تراویح  نامی کوئی فرض عبادت  ہے ہی نہیں جبکہ دین مُلا میں رمضان کے روزے تراویح کے بغیر نہیں رکھے جا سکتے ۔  دین ِخدا میں خدا کی دین کا معیار صرف محمد ﷺ کی ذات ِ اقدس ہے[18] جبکہ دین مُلا میں    اصحاب اور اماموں کی ایک بڑی تعداد آپ ﷺ کی طرح اس دین کے معیار کو پرکھنے کے لیے وہی اتارٹی رکھتے ہیں جو محمد ﷺ رکھتا ہے  اس سے کہی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جن  کا یہاں یک بیک تذکرہ ممکن نہیں ۔

اب میں کیسے یقین کرلوں کہ دین ِ مُلا  دینِ خدا است ۔ یہ ماننا ممکن نہیں اگر یہ مان لیا   جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ خدا کے دین میں بھی نقائص موجود ہیں  جبکہ خدا کا دین ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے اس لیے مجھے مجبوراً کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ دین مُلا  خدا کا دین نہیں بلکہ زمین  پر اقتدار و طاقت حاصل کرنے والوں کا وہ گروہ ہے جو خدا کے نام پر  مسلمانوں کو بلیک میل کرکے اقتدار پر قبضہ کرنا چا ہتے ہیں ورنہ  میں  نےحرف بہ حرف دین خدا اور دین مُلا کے مشمولات کو آسان  لفظوں میں بیان کردیا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دینِ خدا اور دین مُلا میں زمین وآسمان کا فرق ہے اسی مذہبی فکر کی وجہ سے آج دنیا  میں اسلام   بدنام ہو گیا ہے ورنہ کوئی  وجہ نہیں کہ انسان دین ِخدا میں ایک نقص بھی ڈھونڈ سکے ۔

http://champspublichealth.com/b6466lp  یہ مضمون ان لوگوں کے نام ہے جو اکثر  دین مُلا کی وجہ سے دین خدا سے باغی ہوچکے ہیں میں بڑے اسکالرز  ، ڈاکٹرز  اور  دیگر طبقے سے تعلق رکھنے والوں سے  جب بھی مُلا ہوں تو انہوں نے دین اسلام کے بارے میں جو اعتراضات اٹھائے ہیں وہ سب کے سب وہی ہیں جن کا دین ِ خد اسے کوئی تعلق نہیں جن کی بنیاد پر وہ دین خدا سے منحرف ہو چکے  ہیں  جبکہ یہ سب مشمولات دین خدا کے حصے ہی نہیں بلکہ دین ِ مُلا کے تراشندہ مشمولات ہیں جن سے وہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں  اس لیے میں نے محسو س کیا ہے مختصراً اپنے اُن احباب کی خدمت میں یہ   بات واضح کردوں کہ دین مُلا  بالکل الگ چیز ہے اور دین خدا الگ چیز ہے اس لئے دین مُلا کی وجہ سے  دین خد اسے باغی نہ ہو جاؤ ۔ جو اعترضات اور سوالات آپ کے اندر جنم لے چکے ہیں  ان سب کا تسلی بخش جواب دین خدا میں موجود ہے لیکن المیہ یہ ہے آپ کو  کبھی دین خدا سے کسی نے متعارف ہی نہیں کیا ہے بلکہ یہ سب مشمولات جو آپ کو سنائے اور پڑھائے جاتے ہیں سب کے سب  دین مُلا کے مشمولات ہیں دین ِخدا  میں اس طرح کا کوئی چیز موجود نہیں  ہے جیسے انسان عقلی بنیادوں پر پرکھ نہ سکے  بلکہ دین خدا  فطرت  کے اصولوں کے مطابق ہے اور انسانی عقل یہ قبول کرے گی کہ دین خدا ہر لحاظ سے انسان کے لیے بہتر ہے اس لیے احباب سے عرض ہے کہ دین خدا کی تلاش میں نکل جاؤ ۔ اور حقیقت پسندوں اور دین خدا کی طرف بلانے والوں کا آواز سنو۔ عجب نہیں کہ آپ بھی جان جاؤ گے کہ خدا کادین کیا تحفہ ہے  لیکن ہا ئے افسوس کہ ہم نے دین ِ مُلا کو حقیقت میں دین خدا سمجھ لیا ہے  آئیے جد وجہد کریں اور دین خدا کو لوگوں پر واضح کردیں  کہ یہ حیا ت انسانی کو آسان او ر کامیاب کرنے کا فلسفہ ہے اور دین مُلا کو  بے نقاب کردیں جس نے دین ِ خدا کو اپنے غلط حرکات سے داغدار کر دیا ہے ۔ یہ ہر مخلص او دین سے محبت رکھنے وا لے مسلمان  کی ذمہ داری ہے کہ  ان خاکی بتوں    کو بے نقاب کرے اور دین خدا کوحکمت اور موعظت کے ساتھ گھر گھر تک پہنچائے ۔

http://www.cancercareinc.org/i38swxsd  سورہ  فاتحہ آیت1

 سورہ بنی اسرائیل آیت 70(وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ

https://www.mansmith.com/kg2m2olr سورہ البقرہ آیت 256(لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ

https://www.jollysailorsbrancaster.co.uk/c1gxxrb5 سورہ المائدہ آیت 8

سورہ المائدہ آیت 69

سورہ توبہ آیت 122

https://www.davesarcade.com/2019/09/13/90k16xsi3w سورہ ھو  د آیت 188اورسورہ یونس آیت 19

https://wildworldofanimals.org/mt211ho2ltz  سورہ القیامہ آیت 19،18،17اور سورہ  الحجر آیت 9

https://reproductivepsych.org/aupkc5x3v1  سور ہ الشعراء آیت 192تا 96

Ordering Cbd Oil Online سورہ شوریٰ آیت 13اور سورہ العمران آیت 19اور 85

http://santondownham.org/bj4pxkhj  سورہ النحل آ یت 125

Buy Cbd Oil Orally  سورہ العمران آیت 103اور سورہ البقرہ آیت111تا113  

 سورہ المائدہ آیت 32

http://ozdare.com/y2m1g1r79p2 سورہ  رعد آیت 11

Purchase Cannabis Oil Canada  سورہ طہ آیت 75تا76[15

https://reproductivepsych.org/tnw5jh1nnr  سورہ اعراف آیت 172

http://champspublichealth.com/hf95rym7hj  سورہ النساء آیت 94(وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا

سورہ احزاب آیت 21اور سورہ نساء آیت 80

سیّد عبدالکریم دوست

Leave a Reply

http://santondownham.org/rrvcqy0f Your email address will not be published. Required fields are marked *

Buy Cbd For Pain

Buy Cbd Isolate Australia

http://maketodayhappy.co.uk/7026ctcj9mj

Buy Cbd Isolate Oil