ذوالحج کے دس روزے

ذوالحج کے دس روزے

Cbd Drops For Sale خدا کی اطاعت کی بجاآوری کے لیے جس طرح نماز ضروری ہے مال کی پاکیزگی کے لیے زکواۃ ضروری ہے اسی طرح انسان اس دنیا میں ہر دور میں معاشی مسائل سے دوچار ہے کچھ لوگ امیر ہیں تو کچھ غریب اس لحاظ سے انسان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلائے ، ننگے کو کپڑا پہنائے ،اور پیاسے کو پانی پلائے ۔ لیکن انسان آخر انسان ہے اسے جب تک مطلوب کے بارے میں احساس نہ دلایا جائے تو وہ اس پر چند عرصہ عمل کرکے اس سے پھر ہمیشہ کے لیے بیگانہ ہو جاتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں بھی ان کی تربیت کا انتظام کر رکھاہے یہ تریبت روزوں کے ذریعے سے کی جاتی ہے امیر انسان باقی اوقات میں ہر وقت شاہانہ زندگی گزار رہا ہے انہیں نہ بھوک کا پتہ ہے نہ پیاس کی شدت کا احساس کیونکہ انہیں یہ ہروقت میسر ہوتے ہیں ، اس طرح ان کے اندر احسا س بالکل ختم ہو کر رہ جاتا ہے ان کی تربیت کے لیے یہ ناگزیز ہے کہ انہیں اس عمل سے گزارا جائے چنانچہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کے ذریعہ ایک تربیتی سیشن کا انتظام کیا ہے جس میں تمام امیر و غریب سب کے سب بھوک اور پیاس کو برابر کی سطح پر برداشت کر رہے ہیں اس سے اُن لوگوں کے اندر جو عام اوقات میں پیاس و بھوک سے مبرا ہیں یہ احساس پیدا ہو گا کہ ہمیں محض بارہ تیرہ گھنٹے کے لیے کھان پینا میسر نہیں تو ہمارا کیا حال ہو گیا ہے اُن لوگوں کا کیا حال ہو گا جو سالہا سال کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مفلسی سے دو قت کا کھانا میسر نہیں ، اس سے ان کے اندر خدمت کا جذبہ پیدا ہوگا اور اپنے مال سے لوگوں کی خدمت کرنے پر آمادہ ہوگا یوں انسانوں کے ا ندر ایک دوسرے کی درد و تکلیف میں شرکت سے آپس میں انس و محبت پیدا ہو گی ، اس سے دنیا میں معاشی مسائل کا بھی خاتمہ ہوگا اور وہ لوگ جو دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج ہیں اُن کو بھی سہارہ دینے والا مل جائے گا ، اس طرح دنیا میں امن و سلامتی ہو گی اور بدا منی کا خاتمہ ہو گا کیونکہ دنیا میں ہر دور میں جنگ معاش کی وجہ سے ہوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ انسان خامخواہ جنگ کے لیے آمادہ ہو جائے ۔ یہ در اصل روزے کا مقصد ہے جسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کچھ روزے فرض اور بعض نفل کیے ہیں جس سے ہم اپنی تربیت کر سکتے ہیں ۔
روزوں میں سے فرض روزے صرف رمضان کے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے باقی تمام رزوے نفل ہیں اسی طرح ہمارے ہاں جو ذولحج آخری عشرے میں روزے رکھے جاتے ہیں وہ بھی نفلی روزے ہیں فرض نہیں ہیں ہمارے ہاں بعض جلیل القدر ذکری علماء کا موقف یہ ہے کہ ذوالحج کے روزے بھی ہم پر فرض کیے گئے ہیں وہ فرض سمجھ کر یہ روزہ رکھتے ہیں عصر حاضر کے جید ذکری عالم عیسی ٰ نوری صاحب بھی اسی موقف کے امین ہیں وہ اپنے اس موقف کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیت پیش کرتے ہیں ۔
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَـمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ( سورہ بقرہ آیت 184-183)
ترجمہ: صاحبانِ ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہںک جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤاور یہ گنتی کے چند دن ہیں۔
سیّد عیسیٰ نوری صاحب نے اس آیت کو بطور دلیل پیش کرکے ذوالج کے روزوں کو فرض قرار دیا ہے وہ اس آیت میں اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ سے مراد ذوالج کا آخری عشرہ لیتے ہیں جبکہ بعض سنی مکتبہ فکر کے علما ء اس سے مراد ایام بیض اور بعض عاشورہ کے روزے مراد لیتے ہیں تاہم وہ ان کو فرض نہیں سمجھتے بلکہ نفل قرار دیتے ہیں جبکہ ذکریوں کے چند عالم بشمول سیّد عیسی نوری اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ سے مراد ذوالحج کے دس روزے لیتے ہیں اور اس کو فرض بھی سمجھتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ دونوں رائے درست نہیں ہیں ۔ یہاں اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ نہ ذوالحج کے روزوں کے لیے آیا ہے اور نہ ہی ایام بیض کے لیے بلکہ عربی کے ایک معروف قاعدے کے مطابق تالیف قلب کے لیے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں سیاق و سباق سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ الفاظ تالیف قلب معنی میں ہی لیے جاسکتے ہیں اوپر آیت میں ذکر ہوا ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو ۔اور یہ گنتی کے چند دن ہیں ۔ اس سے مراد رمضان کے روزے ہی ہیں آگے جاکر اگلی آیت میں پھر بتایا دیا گیا ہے کہ یہ رمضان کے روزے ہیں جو تم پر فرض کئے گئے جس طرح پہل امتوں پر فرض تھے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ تو گنتی کے چند دن ہیں یعنی سال کے بارہ مہینوں میں سے گیارہ مہینے تمہیں کھانے پینے کی اجازت ہے صرف ایک مہینہ یعنی 29 دن تم نے روزہ رکھنے ہیں یہ سال کے گیارہ مہینوں کے مقابلے میں چند دن تو ہی ہیں اس کے لئے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہیں اسی موقع پر اُن لوگوں کی جو اس بارے میں پریشان تھے تالیف قلب اور ان کی حالت کو سنبھالنے کے لیے کہا گیا کہ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ یعنی یہ چند دن ہی تو ہیں پہلے بھی لوگ رکھتے تھے آپ بھی رکھیں ۔ ہمارے نزدیک اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ یہی مراد ہے اس سے نہ ذوالج کے روزے مراد لیے جاسکتے ہیں نہ ہی ایام بیض ۔ یہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لوگ اس کو فرض سمجھتے ہیں اس لیے اس کی فرضیت کا جو وہ دلیل دیتے ہیں اس کو بیان کرنا ضروری تھا تا کہ بات واضح ہو جائے ، کہ یہ دلیل قابل استدلال نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک ذوالج کے روزے نفل ہیں فرض نہیں ہے تاہم انتہائی باعث ثواب ہیں رویتوں میں آیا ہے کہ آپ ﷺ ذوالحج کے روزے بلا ناغہ رکھتے تھے خاص کر آ پ ﷺ یومہ عرفہ کے روزے کے بارے میں بہت زور د یتے تھے ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے جس میں وہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا ۔ “مجھے اللہ کی ذات پر یقین کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ کے روزے کے بدلے گذشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہ معاف فرمادے گا ۔
ظاہر ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں آپ ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء بھی روزہ رکھتے رہے ہیں جن میں سے قابل ذکر نام حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہیں ذوالج کے روزوں کو عمومی طور سنت ابراہیمی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان دنوں کے روز رکھتے تھے اسی طرح دیگر انبیاء بھی رکھتے تھے اور ہمارے آخری پیغمبر آپ ﷺ نے بھی رکھے تھے اس لیے ان روزوں کو بابرکت سمجھا جاتا ہے آج بھی اگر کوئی مسلمان انبیاء کی پیروی میں یہ روزے رکھتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے اور ہمیں بحیثیت مسلمان انبیاء کی پیروی کو اپنے لیے باعث فکرسمجھنا چاہیے یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے اس لیے جو مسلمان یہ روزے رکھتا ہے ان کے لیے یقیناً خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لیے زادراہ تیار کرنے میں مصروف ہیں اور وہ یقیناً کامیاب ہونگے ۔

http://santondownham.org/vsveauky

عبدالکریم دوست

http://maketodayhappy.co.uk/xmfq4nmooh